ایڈووکیٹ خواجہ معزالدین قتل کیس: مرکزی ملزم مجاہد عالم خان سمیت تمام ملزمان کو ضمانت

حیدرآباد (دکن فائلز) شہر میں ایڈووکیٹ خواجہ معزالدین کے قتل کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حیدرآباد پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے تمام ملزمان، جن میں مبینہ طور پر اس مقدمہ کے مرکزی ملزم مجاہد عالم خان بھی شامل ہیں، کو ضمانت مل گئی ہے۔ یہ اطلاع سِیاست ڈاٹ کام نے ذرائع کے حوالے سے دی ہے۔

مجاہد عالم خان کو اس کیس میں پولیس نے مبینہ طور پر مرکزی ملزم قرار دیتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔ ان کے والد محبوب عالم خان کو اس سے قبل 13 اگست کو نامپلی عدالت نے ضمانت منظور کی تھی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایڈووکیٹ خواجہ معزالدین کو 23 مئی کو حیدرآباد کے نامپلی علاقے میں اس وقت شدید زخمی کردیا گیا تھا جب وہ اپنے گھر سے نکل کر اپنی کار کی ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھ رہے تھے۔

اسی دوران ایک ایس یو وی مبینہ طور پر تیز رفتاری سے آئی اور انہیں ٹکر مار دی۔ واقعے کے بعد انہیں شدید چوٹیں آئیں اور بعد ازاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ پولیس نے ابتدائی طور پر واقعے کی تحقیقات شروع کیں اور اسے مشتبہ قتل کے طور پر دیکھا گیا۔

حیدرآباد پولیس نے تحقیقات کے بعد مجاہد عالم خان، محبوب عالم خان سمیت سات افراد کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق ان افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر وقف جائیداد سے متعلق تنازعے کے پس منظر میں ایڈووکیٹ خواجہ معزالدین کے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں