اہم خبر: تلنگانہ SIR میں بی جے پی اور آر ایس ایس کارکنوں پر گہری نظر رکھی جائے! مہاراشٹرا میں بھگوا پارٹی کا غنڈہ غیرقانونی طور پر ہزاروں ایس آئی آر فارمس کی فوٹو کاپی کرتے پکڑا گیا، 5 بی ایل اوز معطل

حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹرا کے نوی ممبئی میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن یعنی (ایس آئی آر) سے متعلق 3,404 اصل انتخابی فارم ایک فوٹو کاپی کی دکان پر پائے جانے کے بعد انتخابی دستاویزات کی حفاظت اور ووٹروں کی ذاتی معلومات کے تحفظ پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ معاملے میں پانچ بوتھ لیول افسران (BLOs) کو معطل کردیا گیا ہے، جبکہ ایک بی جے پی کارکن کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

یہ واقعہ تلنگانہ میں جاری SIR کے تناظر میں بھی انتہائی اہم ہے۔ تلنگانہ کے ووٹروں کو اپنے انتخابی فارم، شناختی دستاویزات اور ذاتی معلومات کسی غیرمجاز شخص کے حوالے کرنے سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح انتخابی عمل سے متعلق سرکاری دستاویزات اگر کسی سیاسی کارکن یا غیرمتعلقہ شخص کے ہاتھ میں نظر آئیں تو متعلقہ انتخابی حکام کو فوری اطلاع دینا ضروری ہے۔

اطلاعات کے مطابق نوی ممبئی کے کھارگھر علاقے میں ایک فوٹو کاپی کی دکان پر پنوِل اسمبلی حلقے سے متعلق 3,404 SIR فارم پائے گئے۔ یہ فارم 188 پنوِل اسمبلی حلقے کے 11 پولنگ اسٹیشنوں سے متعلق بتائے گئے ہیں۔ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مقامی شیو سینا یو بی ٹی رہنما نے مبینہ طور پر سورج پاٹل نامی شخص کو ان فارموں کے ساتھ فوٹو کاپی کی دکان پر دیکھا۔ حکام کے مطابق پاٹل بھارتیہ جنتا یوا مورچہ یعنی BJYM سے وابستہ عہدیدار ہیں۔

انتخابی اور محکمہ محصولات کے حکام کو اطلاع دی گئی، جس کے بعد دستاویزات کی جانچ کی گئی۔ حکام نے تصدیق کی کہ یہ عام یا جعلی کاغذات نہیں بلکہ اصل SIR فارم تھے، جن میں ووٹروں کی تصاویر، ذاتی معلومات اور متعلقہ BLOs کے دستخط بھی موجود تھے۔

رائے گڑھ کے کلکٹر کے مطابق حکام نے جب فارموں کی تصدیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ اصل سرکاری انتخابی دستاویزات ہیں اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری متعلقہ BLOs پر تھی۔ اسی بنیاد پر اس علاقے سے متعلق پانچ بوتھ لیول افسران کو معطل کردیا گیا ہے۔ حکام اس بات کی تحقیقات کررہے ہیں کہ یہ اصل فارم BLOs کی تحویل سے باہر کیسے پہنچے اور انہیں فوٹو کاپی کی دکان تک کس طرح لایا گیا۔

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ SIR فارم محض عام کاغذات نہیں ہوتے بلکہ ان میں ووٹر کی تصویر اور دیگر ذاتی معلومات شامل ہوسکتی ہیں۔ انتخابی دستاویزات کی غیرمجاز نقل تیار ہونا ووٹرز کی رازداری اور انتخابی عمل کی شفافیت دونوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

پولیس نے سورج پاٹل کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) اور عوامی نمائندگی ایکٹ (Representation of the People Act) کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ پولیس کے مطابق پاٹل کو حراست میں لے کر قانونی طریقہ کار کے تحت نوٹس دیا گیا، جس کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

تاہم، دستیاب اطلاعات میں یہ ثابت نہیں ہوا کہ پانچوں BLOs نے جان بوجھ کر فارم کسی سیاسی کارکن کو فراہم کیے تھے۔ اصل سوال یہی ہے کہ سرکاری تحویل میں موجود دستاویزات غیرمجاز طور پر باہر کیسے پہنچیں اور ان کی فوٹو کاپیاں کیوں تیار کی جارہی تھیں۔ اس کا فیصلہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا۔

مہاراشٹرا کا یہ واقعہ تلنگانہ میں SIR کے دوران ووٹرز اور انتخابی حکام کے لیے ایک اہم انتباہ ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت، کارکن یا غیرمتعلقہ شخص کو SIR فارم یا ووٹر کی ذاتی معلومات تک غیرمجاز رسائی نہیں ہونی چاہیے۔

تلنگانہ میں بھی ضروری ہے کہ انتخابی حکام SIR سے متعلق دستاویزات کی حفاظت پر خصوصی توجہ دیں اور کسی بھی سیاسی یا غیرسماجی عنصر کی جانب سے انتخابی ریکارڈ تک غیرمجاز رسائی کی شکایت کو سنجیدگی سے لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں