دارالحکومت دہلی سے ملک بھر تک طلبا کی آواز بلند، لیکن حیدرآباد میں خاموشی کیوں؟ تعلیمی اداروں پر ہندوتوا طاقتوں کا قبضہ؟

حیدرآباد (دکن فائلز) ملک بھر میں نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں، تعلیمی شفافیت اور طلبا کے حقوق سے متعلق مختلف مطالبات کے حق میں احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں۔ دارالحکومت نئی دہلی سمیت کئی شہروں میں طلبا تنظیمیں، مختلف سماجی حلقے اور بعض سیاسی جماعتیں احتجاج کر رہی ہیں۔ کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم، لاٹھی چارج، حراست میں لینے اور مقدمات درج کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جن پر حکومت کے ناقدین نے سخت اعتراضات اٹھائے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں اور طلبا تنظیموں کا الزام ہے کہ حکومت پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کہیں لاٹھی چارج کیا جا رہا ہے، کہیں طلبا کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور کئی مقامات پر پولیس اور سیکورٹی فورسز کی جانب سے سخت رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ قانون و امن برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ان تمام حالات کے باوجود احتجاجی طلبا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ جدوجہد صرف ایک امتحان یا ایک بیچ کے طلبا کے لیے نہیں بلکہ ملک کے تعلیمی نظام کی شفافیت، لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل اور والدین کی امیدوں کے تحفظ کی جدوجہد ہے۔

تاہم ان حالات کے درمیان حیدرآباد کی متعدد جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں نمایاں خاموشی دیکھی جا رہی ہے۔ جہاں ملک کے کئی حصوں میں طلبا سڑکوں پر نظر آ رہے ہیں، وہیں حیدرآباد میں اب تک طلبا کی وسیع پیمانے پر حمایت یا کوئی بڑا احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس صورتحال پر مختلف سماجی اور سیکولر حلقے سوالات اٹھا رہے ہیں کہ کیا حیدرآباد کی یونیورسٹیز اور تعلیمی اداروں پر ہندوتوا فورسس کا قبضہ ہوچکا ہے؟ یا طلبا آر ایس ایس کے فریب میں آکر طلبا کے جائز احتجاج کی تائید نہیں کررہے ہیں۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ حیدرآباد ہمیشہ سے طلبا تحریکوں اور سماجی شعور کا اہم مرکز رہا ہے، اس لیے موجودہ خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آیا طلبا تنظیمیں موجودہ حالات میں غیر فعال ہو چکی ہیں، انتظامی دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں یا پھر دیگر وجوہات کے باعث احتجاج سے دور ہیں۔

کچھ ناقدین یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا حیدرآباد کے تعلیمی اداروں میں طلبا آزادانہ طور پر اپنے جمہوری حق کا استعمال کر پا رہے ہیں، یا وہ کسی قسم کے دباؤ اور خوف کی وجہ سے خاموش ہیں۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اس موضوع پر کھلے مباحثے اور طلبا کی رائے سامنے آنا ضروری ہے۔

سماجی کارکنوں اور ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ طلبا کے حقوق، تعلیمی شفافیت اور مستقبل جیسے معاملات کو مذہب، ذات، زبان یا سیاسی وابستگی کی عینک سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر کسی بھی طبقے کے طلبا اپنے جائز مطالبات کے لیے آواز بلند کرتے ہیں تو جمہوری معاشرے میں انہیں پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے، اور اس حق کا احترام کیا جانا چاہیے۔

ان حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک کا مستقبل تعلیمی اداروں اور نوجوانوں سے وابستہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ طلبا کے مسائل کو سنجیدگی سے سنا جائے، اختلافِ رائے کے جمہوری حق کا احترام کیا جائے اور ایسے ماحول کو فروغ دیا جائے جہاں نوجوان بلا خوف اپنی بات رکھ سکیں۔ ان کے مطابق مضبوط، شفاف اور منصفانہ تعلیمی نظام ہی ملک کے روشن مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں