مہاراشٹرا میں احتجاجی طلبا کے خلاف ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں! طلبا کو ڈرگس کے جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکی، ممبئی پولیس کی غنڈہ گردی بے نقاب؟

حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹرا میں نیٹ پیپر لیک اور تعلیمی بے ضابطگیوں کے خلاف جاری طلبا تحریک کو دبانے کے لیے پولیس کی سخت کارروائیوں پر شدید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اس دوران ایک وائرل ویڈیو نے ممبئی پولیس کو ایک نئے تنازع میں گھیر لیا ہے، جس میں مبینہ طور پر ایک پولیس اہلکار احتجاجی طلبا کو دوبارہ احتجاج میں شریک ہونے کی صورت میں جھوٹے ڈرگس مقدمات میں پھنسانے** اور ان کی زندگی تباہ کرنے کی دھمکی دیتا دکھائی دے رہا ہے۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ ویڈیو ممبئی کانگریس کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ ویڈیو میں ایک پولیس وین کے اندر موجود چند نوجوان نظر آتے ہیں، جنہیں مبینہ طور پر احتجاجی مقام سے حراست میں لیا گیا تھا۔ سامنے والی نشست پر بیٹھا ایک پولیس اہلکار طلبا کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں اور دوبارہ احتجاج میں شریک نہ ہوں۔

ویڈیو میں پولیس اہلکار کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اگر وہ دوبارہ احتجاج میں نظر آئے تو وہ ان کی زندگی برباد کر دے گا۔ اس کے بعد وہ مبینہ طور پر طلبا کو دھمکی دیتا ہے کہ ان کے بیگ میں 50، 50 گرام “پاؤڈر” رکھ کر انہیں جھوٹے ڈرگس کیس میں پھنسا دیا جائے گا، جس کے بعد ان کی پوری زندگی ختم ہو جائے گی۔ اہلکار یہ بھی کہتا ہے کہ طلبا کے احتجاج نے اس کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔

یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد ممبئی پولیس نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی صداقت اور حالات کی جانچ شروع کر دی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک ویڈیو میں نظر آنے والے یونیفارم پوش پولیس ڈرائیور کو اس کی موجودہ ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔

ممبئی کانگریس نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ صرف طلبا کو ڈرانے کی کوشش نہیں بلکہ جمہوری حقوق پر براہ راست حملہ ہے۔ کانگریس کے مطابق اپنی آواز بلند کرنا کوئی جرم نہیں، بلکہ طلبا کے سوالات کا جواب دھمکیوں سے نہیں بلکہ جوابدہی کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔

ادھر ایک اور میڈیا رپورٹ کے مطابق ممبئی پولیس نے احتجاجی طلبا کو دوبارہ سڑکوں پر آنے سے روکنے کے لیے مختلف نئے طریقے اختیار کیے ہیں۔ متعدد طلبا نے دعویٰ کیا ہے کہ جن کے خلاف پہلے ہی مقدمات درج کیے گئے تھے یا جنہیں قانونی نوٹس جاری کیے گئے تھے، انہیں مقامی پولیس اسٹیشنوں سے براہ راست فون کالز کی جا رہی ہیں اور واٹس ایپ پر پیغامات بھیج کر گھروں میں رہنے کی ہدایت دی جا رہی ہے۔

بعض طلبا نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس نے ان سے مسلسل واٹس ایپ لائیو لوکیشن شیئر کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ احتجاج میں شریک نہ ہوں۔ اس کے علاوہ بھارتیہ نیاے سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 35(3) کے تحت کئی طلبا کو واٹس ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل نوٹس بھی بھیجے گئے، جن میں انہیں گزشتہ احتجاجی اجتماعات کے سلسلے میں پولیس کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی۔

اس سے قبل بھی ممبئی پولیس نے نیٹ پیپر لیک کے خلاف جاری احتجاج کے سلسلے میں بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے شہر کے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں 13 ایف آئی آر درج کی تھیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق شیواجی پارک، دادر، چیمبور، ماہم، سیون، ورلی، کالاچوکی، بھوئیواڈا اور وڈالا ٹی ٹی سمیت مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر 900 سے زائد طلبا اور مظاہرین کے خلاف مقدمات درج کیے گئے، جبکہ متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔

پولیس کے مطابق یہ مقدمات بغیر اجازت احتجاج، غیر قانونی اجتماع اور امن و امان کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت درج کیے گئے ہیں۔ چیمبور کے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر گارڈن اور دادر کے شیوسینا بھون سمیت مختلف مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی، جہاں کئی مظاہرین کو حراست میں لینے کے بعد باقی ہجوم کو منتشر کر دیا گیا۔

طلبا تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے پولیس کی ان کارروائیوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبا کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں، واٹس ایپ کے ذریعے نگرانی، گھروں پر نوٹس بھیجنا اور احتجاج سے باز رہنے کی تنبیہ جمہوری اقدار کے منافی ہے اور ایسے اقدامات نوجوانوں کی آواز دبانے کی کوشش کے مترادف ہیں۔

دوسری جانب ممبئی پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ وائرل ویڈیو کی غیر جانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں اور اگر کسی اہلکار کی جانب سے ضابطے کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو اس کے خلاف مناسب محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں