دہلی میں طلبا پر پیلٹ گن استعمال کا تنازعہ: سی آر پی ایف جانچ شروع، انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش

حیدرآباد (دکن فائلز) دارالحکومت دہلی میں 20 جولائی کو “کاکروچ جنتا پارٹی” (سی جے پی) کی جانب سے پارلیمنٹ مارچ کے دوران احتجاجی طلبا پر مبینہ طور پر پیلٹ گن استعمال کیے جانے کے الزامات نے نیا سیاسی اور قانونی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اس معاملے پر دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے کہا ہے کہ وہ میڈیا میں سامنے آنے والی ان اطلاعات کی جانچ کر رہی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ فائر کرنے والے ہتھیار استعمال کیے تھے۔

سی آر پی ایف کے ایک سینئر افسر نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ یہ ایک آپریشنل معاملہ ہے اور متعلقہ حکام اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ آیا احتجاج کے دوران واقعی پیلٹ گن استعمال کی گئی تھی یا نہیں۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب جنتر منتر اور اس کے اطراف پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے دوران سیکورٹی فورسز پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کے الزامات سامنے آئے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اس کارروائی میں 80 سے زائد مظاہرین زخمی ہوئے۔

اگرچہ دہلی پولیس نے واضح طور پر کہا ہے کہ احتجاج کو منتشر کرنے کے لیے نہ پیلٹ گن استعمال کی گئی اور نہ ہی ربڑ پیلٹس، تاہم اسپتال ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات نے ان دعوؤں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کم از کم دو افراد، جن میں ایک احتجاجی اور ایک صحافی شامل ہیں، کو ایسے زخم آئے جنہیں ڈاکٹروں نے مبینہ گولی یا پیلٹ لگنے جیسے زخم قرار دیا۔ ان واقعات کے بعد آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔

زخمی ہونے والوں میں ایک شخص کی شناخت شیخ ارشاد منصوری کے نام سے ہوئی ہے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ انہیں پولیس کارروائی کے دوران پیلٹ لگے۔ لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج کے بعض ڈاکٹروں نے بھی میڈیا سے گفتگو میں اشارہ دیا کہ کم از کم ایک زخمی کے زخم پیلٹ گن سے مطابقت رکھتے ہیں۔

اسی طرح ایک صحافی، جسے مبینہ طور پر پیلٹ لگنے کا شبہ تھا، کو صفدر جنگ اسپتال میں علاج کے لیے منتقل کیا گیا۔ اس واقعے کے بعد توجہ ریپڈ ایکشن فورس کی جانب مبذول ہوئی ہے، جو سی آر پی ایف کی خصوصی انسداد ہنگامہ یونٹ ہے اور احتجاج کے دوران دہلی پولیس کے ساتھ تعینات تھی۔

آر اے ایف کے پاس ہجوم پر قابو پانے کے لیے مختلف غیر مہلک ہتھیار موجود ہوتے ہیں، جن میں پیلٹ گن، آنسو گیس لانچر، اسٹن گرینیڈ، پلاسٹک لاٹھیاں اور دیگر حفاظتی ساز و سامان شامل ہیں۔ سرکاری ضابطوں کے مطابق ایسے ہتھیار صرف اس صورت میں استعمال کیے جا سکتے ہیں جب کمانڈنگ افسر یہ سمجھے کہ حالات قابو سے باہر ہو رہے ہیں، کم درجے کے اقدامات ناکام ہو چکے ہیں اور عوامی نظم یا سیکورٹی اہلکاروں کی جان کو فوری خطرہ لاحق ہے۔

تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں اور قانونی ماہرین نے نہتے مظاہرین کے خلاف دھاتی پیلٹس کے مبینہ استعمال پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ سپریم کورٹ کے وکیل موہن شیام نے کہا کہ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے دھاتی پیلٹس کا استعمال اقوام متحدہ کے ان بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا، جن کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے طاقت کا استعمال صرف ضرورت کے مطابق، متناسب انداز میں اور کم سے کم نقصان پہنچانے کے اصول کے تحت کر سکتے ہیں۔

سی آر پی ایف کا کہنا ہے کہ معاملے کی جانچ جاری ہے اور اگر تحقیقات میں کسی قسم کی خلاف ورزی سامنے آتی ہے تو متعلقہ ضابطوں کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جبکہ اس معاملے پر سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں کی نظریں اب تحقیقات کے نتائج پر مرکوز ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں