حیدرآباد (دکن فائلز) نیٹ امتحان میں مبینہ پیپر لیک اور دہلی میں احتجاجی طلبہ پر پولیس کارروائی کے خلاف تلنگانہ میں سیاسی احتجاج بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) نے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو فوری طور پر برطرف کرنے، ملک میں جامع تعلیمی اصلاحات نافذ کرنے اور طلبہ کے خلاف درج تمام مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کے ٹی آر نے جمعہ کو حیدرآباد کے دھرنا چوک میں منعقدہ ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کیا، جہاں بی آر ایس کارکنوں، طلبہ اور نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ یہ احتجاج دہلی کے جنتر منتر میں نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس کارروائی کے خلاف منعقد کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے نوجوانوں کو ناراض کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ ان کے مطابق نئی نسل اب خاموش رہنے والی نہیں، بلکہ وہ اپنے حقوق کے لیے کھل کر سڑکوں پر نکل رہی ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ملک بھر میں جاری تحریک صرف نیٹ پیپر لیک کے خلاف نہیں بلکہ گزشتہ بارہ برسوں سے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور مایوسی کا اظہار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوان اب یہ محسوس کر رہے ہیں کہ انہیں مذہب اور سیاست کے نام پر گمراہ کیا جا رہا ہے جبکہ ان کے مستقبل اور روزگار کے بنیادی مسائل نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دہلی میں طلبہ پر پولیس کی کارروائی کو “ریاستی تشدد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی حساس انسان ان مناظر کو دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا طلبہ نے وزیر اعظم، امت شاہ یا دھرمیندر پردھان کی کرسی مانگی تھی؟ وہ تو صرف انصاف، جوابدہی اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت میں واقعی کسی کے دل میں نوجوانوں کے لیے ہمدردی ہے تو اسے طلبہ سے مذاکرات کر کے ان کے مسائل کا حل نکالنا چاہیے، نہ کہ طاقت کے ذریعے ان کی آواز دبانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
کے ٹی آر نے دہلی میں احتجاجی طلبہ پر مبینہ تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف درج تمام مقدمات فوری طور پر واپس لیے جائیں۔ اس موقع پر کے ٹی آر نے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب راہل گاندھی سمیت اپوزیشن کے کئی رہنما دہلی جا کر طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے ہیں تو ریونت ریڈی وہاں کیوں نہیں جا رہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ مرکزی حکومت سے ٹکر لینے سے گریز کر رہے ہیں۔ کے ٹی آر نے واضح کیا کہ بی آر ایس نے جان بوجھ کر دہلی کے جنتر منتر میں طلبہ کے احتجاج میں براہ راست شرکت نہیں کی تاکہ طلبہ کی تحریک کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے، تاہم پارٹی ہر اس تحریک کی حمایت جاری رکھے گی جو نیٹ پیپر لیک، امتحانی اصلاحات اور نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے چلائی جائے گی۔
احتجاج میں مختلف طلبا تنظیموں اور بڑی تعداد میں نوجوانوں نے شرکت کی اور مطالبہ کیا کہ تعلیمی نظام میں مکمل شفافیت لائی جائے، پیپر لیک کے ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے اور لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔


