حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ حکومت کی جانب سے می سیوا کے ذریعہ فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا فیصلہ ریاست کے لاکھوں شہریوں کے لیے ایک اہم عوامی سہولت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد شہریوں کو مختلف سرکاری خدمات کے حصول میں آسانی فراہم کرنا، خاندانی تفصیلات کی تصدیق کو یکساں بنانا اور ایک مستند و قابلِ اعتماد خاندانی ریکارڈ مہیا کرنا ہے۔
اس فیصلے کو جہاں عوامی حلقوں، سماجی تنظیموں اور متعدد سیاسی رہنماؤں نے سراہا، وہیں تلنگانہ بی جے پی کے صدر این رام چندر راؤ نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت مبینہ طور پر “غیر قانونی ووٹ بینک” کو تحفظ دینے کے لیے جلد بازی میں فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ جاری کر رہی ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر حکومت شہریوں کو ایک مستند خاندانی سرٹیفکیٹ فراہم کر رہی ہے، جو مختلف سرکاری خدمات اور دستاویزات کی تصدیق میں مددگار ثابت ہوگا، تو اس انتظامی اقدام کو فوری طور پر سیاسی رنگ دینا کہاں تک مناسب ہے؟ عوام کا کہنا ہے کہ اس اہم معاملہ پر بھی بی جے پی، ہندو مسلم کررہی ہے۔
مزید یہ کہ غیر قانونی دراندازی، سرحدی نگرانی، شہریت اور غیر ملکی شہریوں کی شناخت جیسے معاملات بنیادی طور پر مرکزی حکومت اور اس کے ماتحت اداروں کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔ اگر واقعی کسی بھی ریاست میں کوئی شخص غیر قانونی طور پر مقیم ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی متعلقہ ایجنسیاں کرتی ہیں۔ ایسے معاملات میں سیاسی بیانات کے بجائے قانونی عمل زیادہ اہم ہوتا ہے۔ اگر بی جے پی کا الزام صحیح ہے تو پھر امت شاہ کو فوری طور پر مستعفی ہونا چاہئے کیونکہ مرکز میں گذشتہ 12 سال سے مودی کی حکومت ہے۔
دوسری جانب، تلنگانہ حکومت کے اس فیصلے کا ایک عملی پہلو بھی ہے۔ حکومت کے مطابق فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ سے غریب، دیہی اور دستاویزات کی کمی کا سامنا کرنے والے خاندانوں کو مختلف سرکاری خدمات حاصل کرنے میں سہولت ملے گی۔ یہی وجہ ہے کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ یہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران بھی بہت سے شہریوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں انہوں نے کانگریس رہنما فہیم قریشی کے ساتھ حکومت سے نمائندگی بھی کی تھی۔ حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور محمد علی شبیر نے بھی اس اقدام کو عوامی مفاد میں قرار دیا۔
جمہوری نظام میں حکومت کے فیصلوں پر تنقید کرنا اپوزیشن کا حق ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ اعتراضات حقائق، قانون اور شواہد کی بنیاد پر ہوں۔ اگر کسی پالیسی سے عام شہریوں کو سہولت ملنے کا امکان ہو تو اس کے فوائد اور ممکنہ خامیوں دونوں پر متوازن بحث ہونی چاہیے، تاکہ عوامی مفاد کو سیاست سے بالاتر رکھا جا سکے۔


