حیدرآباد (دکن فائلز) دہلی کے تاریخی جنتر منتر پر نیٹ پیپر لیک کے خلاف ہونے والی طلبہ تحریک صرف احتجاج، نعروں اور سیاسی کشمکش تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس تحریک نے ایسے عام نوجوانوں کو بھی ملک کے سامنے لا کھڑا کیا جنہوں نے اپنی بے لوث خدمت، انسان دوستی اور شعور سے لاکھوں لوگوں کے دل جیت لیے۔ ان میں دو نام سب سے نمایاں ہو کر سامنے آئے— محمد جنید ملک اور محمد عرفان۔ ایک نے بھوکے طلبہ کو کھانا کھلا کر انسانیت کا سبق دیا، تو دوسرے نے اپنی غیر معمولی فہم و فراست سے یہ ثابت کر دیا کہ علم صرف ڈگریوں کا محتاج نہیں ہوتا۔
غازی آباد کے رہنے والے اور ایل ایل بی کے طالب علم محمد جنید ملک اس وقت خبروں میں آئے جب انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الزام لگایا کہ طلبہ کو کھانا اور پانی فراہم کرنے کی وجہ سے انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مبینہ طور پر پولیس کی ہراسانی، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
اپنی درخواست میں جنید نے کہا کہ وہ کسی سیاسی جماعت یا تحریک کے کارکن کی حیثیت سے نہیں بلکہ صرف انسانیت کے جذبے سے جنتر منتر پہنچے تھے۔ ان کے مطابق وہاں موجود بھوکے اور پیاسے طلبہ کو کھانا اور پانی فراہم کرنا ان کے نزدیک ایک انسانی ذمہ داری تھی، نہ کہ کوئی جرم۔ انہوں نے کہاکہ “میں نے صرف بھوکے طلبہ کو کھانا اور پانی فراہم کیا تھا۔ یہ ایک انسانی فریضہ تھا، کوئی جرم نہیں۔”
درخواست میں انہوں نے الزام لگایا کہ احتجاج کے بعد پولیس انہیں گھر سے لے گئی، کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھا، ان کے اہل خانہ کو بھی بار بار تھانے بلایا گیا اور ان پر ذہنی دباؤ ڈالا گیا۔ بعد میں انہوں نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ انہیں اور ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے اور غیر قانونی کارروائیوں کو روکا جائے۔
اسی دوران کانگریس کے راجیہ سبھا رکن عمران پرتاپ گڑھی نے محمد جنید سے ملاقات کی اور کہا کہ مظاہرین کو کھانا کھلانا کوئی جرم نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت ہے۔ انہوں نے جنید کو ہر ممکن قانونی اور اخلاقی تعاون کا یقین دلایا۔
جنتر منتر کی تحریک سے ایک اور نام ابھر کر سامنے آیا— محمد عرفان، جو دہلی کی ایک جھگی میں رہنے والے 35 سالہ مزدور ہیں۔ عرفان باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کر سکے، لیکن ان کی آئینی معلومات، مزدوروں کے حقوق سے آگاہی اور جمہوریت پر گرفت نے ہزاروں لوگوں کو حیران کر دیا۔
تحریک کے دوران انہوں نے بھارتی آئین کی تمہید زبانی سنائی، معروف شاعر نیرج کی نظم بھی سنائی اور مزدوروں، مساوات، آئین اور عوامی حقوق پر جس اعتماد کے ساتھ گفتگو کی، اس نے انہیں سوشل میڈیا پر راتوں رات مقبول بنا دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عرفان پڑھنا لکھنا نہیں جانتے، لیکن گوگل وائس سرچ کے ذریعے معلومات حاصل کرتے ہیں، انہیں یاد کرتے ہیں اور پھر سادہ زبان میں دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔
ان کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی خود ان کی جھگی میں پہنچے، ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور ان کی باتیں غور سے سنیں۔ راہل گاندھی نے بعد میں کہا کہ عرفان جیسے نوجوان ہی ہندوستان کی اصل طاقت اور امید ہیں، کیونکہ وہ اپنے حقوق اور فرائض دونوں سے واقف ہیں۔
کانگریس نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ عرفان جیسے نوجوان ملک کے مستقبل کی علامت ہیں اور ایک ایسا ہندوستان تعمیر کرنے کا عزم ظاہر کیا جہاں محبت، مساوات، احترام اور مواقع سب کے لیے یکساں ہوں۔
محمد جنید اور محمد عرفان کی کہانیاں مختلف ہیں، لیکن ان کا پیغام ایک ہے۔ ایک نوجوان نے خدمت کے ذریعے یہ دکھایا کہ انسانیت کسی سیاسی شناخت کی محتاج نہیں، جبکہ دوسرے نے ثابت کیا کہ شعور، مطالعہ اور سماجی احساس صرف ڈگریوں سے پیدا نہیں ہوتے۔
جنتر منتر کی یہ تحریک شاید سیاسی اعتبار سے مختلف زاویوں سے دیکھی جائے، لیکن اس نے ایسے عام نوجوانوں کو سامنے ضرور لایا جنہوں نے اپنی خدمت، اخلاق اور سماجی شعور سے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج محمد جنید اور محمد عرفان کے نام صرف دو افراد کے نہیں، بلکہ ان نوجوانوں کی علامت بن چکے ہیں جو مشکل حالات میں بھی دوسروں کی مدد کرنے اور اپنے خیالات باوقار انداز میں پیش کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔


