بابری مسجد کی شہادت کے خلاف احتجاج کرنا ملک دشمنی نہیں! بمبئی ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ: فرقہ پرستوں اور اندھ بھگتوں کے بدنما چہروں پر زوردار طمانچہ

حیدرآباد (دکن فائلز) بمبئی ہائی کورٹ نے ایک اہم آئینی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بابری مسجد کے انہدام کی مخالفت کرنا، مرکزی حکومت کے فیصلوں کے خلاف احتجاج کرنا یا حکومت مخالف نعرے لگانا کسی شہری کو جلاوطن کرنے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اختلافِ رائے اور پرامن احتجاج جمہوری نظام کا بنیادی حصہ ہیں اور انہیں دبانے کے لیے پولیس اختیارات کا استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس مادھو جمدار پر مشتمل سنگل بنچ نے سعید احمد عبدالواحد چودھری، جو سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے مہاراشٹر جنرل سیکریٹری ہیں، کے خلاف جاری کیے گئے ایک سالہ جلاوطنی کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی کارروائی شہری کے بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق سعید احمد عبدالواحد چودھری گزشتہ کئی برسوں سے مختلف عوامی اور سیاسی معاملات پر احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کرتے رہے ہیں۔ ان میں شہریت ترمیمی قانون (CAA)، این آر سی، بابری مسجد کے انہدام، گیان واپی مسجد تنازعہ، وقف بورڈ میں مبینہ بدعنوانی اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف احتجاج بھی شامل تھے۔

ممبئی پولیس نے 2025 میں ان کے خلاف مہاراشٹر پولیس ایکٹ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے انہیں ایک سال کے لیے ممبئی اور اس سے ملحقہ علاقوں سے باہر رہنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے کی توثیق بعد میں کونکن ڈویژن کے ڈویژنل کمشنر نے بھی کر دی تھی۔

سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ کسی شہری کا یہ کہنا کہ “بابری مسجد کو منہدم نہیں کیا جانا چاہیے تھا” یا حکومت کی کسی پالیسی پر اختلاف رائے ظاہر کرنا، بذاتِ خود کوئی مجرمانہ عمل یا ملک دشمن سرگرمی نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایسے خیالات کا اظہار آئین کے تحت حاصل آزادیٔ اظہار کے دائرے میں آتا ہے۔

عدالت نے پولیس سے سخت سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ آخر “بی جے پی حکومت مردہ باد” یا “امت شاہ مردہ باد” جیسے سیاسی نعروں کی بنیاد پر کسی شہری کو اس کے اپنے شہر سے بے دخل کیسے کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس مادھو جمدار نے ریمارکس دیے کہ پولیس عوام کی خدمت کے لیے ہے، کسی وزیر یا حکومت کی ذاتی ملازم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر شہری حکومت کی پالیسیوں پر احتجاج بھی نہیں کر سکتے تو کیا انہیں حکومت کا غلام بنا دیا جائے؟

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 19 شہریوں کو آزادیٔ اظہار اور پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 21 ہر شہری کو باوقار زندگی گزارنے کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ صرف اس بنیاد پر کسی شخص کو جلاوطن کرنا کہ وہ حکومت کی بعض پالیسیوں کی مخالفت کرتا ہے، ان بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پولیس کے پاس ایسا کوئی قابلِ اعتماد مواد موجود نہیں تھا جس سے ثابت ہو کہ درخواست گزار کی سرگرمیوں سے عوام میں خوف، بدامنی یا جان و مال کو حقیقی خطرہ لاحق ہوا ہو۔ عدالت کے مطابق درخواست گزار کے خلاف درج بیشتر مقدمات صرف اس بنیاد پر تھے کہ انہوں نے پولیس اجازت کے بغیر احتجاج یا دھرنے منعقد کیے، جو زیادہ سے زیادہ تعزیراتِ ہند کی دفعہ 188 کے تحت معمولی نوعیت کا جرم بنتا ہے، اور یہ مہاراشٹر پولیس ایکٹ کے تحت جلاوطنی جیسے غیر معمولی اقدام کے لیے کافی نہیں۔

تمام دلائل کا جائزہ لینے کے بعد بمبئی ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ممبئی پولیس کی جانب سے جاری کیا گیا جلاوطنی کا حکم اور اس کے خلاف اپیل مسترد کرنے کا فیصلہ دونوں قانون کے مطابق برقرار نہیں رہ سکتے۔ عدالت نے دونوں احکامات منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری نظام میں اختلافِ رائے، احتجاج اور حکومت پر تنقید کو پولیس اختیارات کے ذریعہ دبایا نہیں جا سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں