حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش کے خرگون میں 2022 کے رام نومی تشدد کیس میں سیشن عدالت نے تمام 11 مسلم ملزمان کو بری کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ اپنے الزامات کو شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد اور گواہوں کے بیانات میں نمایاں تضاد پایا گیا، اس لیے سزا دینا ممکن نہیں۔
چوتھے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ کے 13 گواہوں میں سے 8 نے عدالت میں ملزمان کی شناخت نہیں کی اور متعدد گواہ منحرف (Hostile) ہو گئے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ پٹرول بم استعمال کیے جانے کا الزام بھی ثابت نہیں ہو سکا۔
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) کے مطابق بری ہونے والے افراد نے مقدمے کے دوران تقریباً ڈیڑھ سے دو سال تک جیل میں وقت گزارا۔ یہ مقدمہ اپریل 2022 میں رام نومی جلوس کے دوران پیش آئے فرقہ وارانہ تشدد سے متعلق تھا۔


