اسلام دشمن ملعون سلمان رشدی پر حملہ: ہادی مطر دہشت گردی کے تمام وفاقی الزامات میں مجرم قرار، عمر قید کا سامنا

حیدرآباد (دکن فائلز) امریکی عدالت کی ایک جیوری نے برطانوی نژاد اسلام دشمن مصنف ملعون سلمان رشدی پر 2022 میں ہونے والے چاقو حملے کے مقدمے میں ہادی مطر کو وفاقی دہشت گردی سمیت تمام الزامات میں مجرم قرار دے دیا ہے۔

صرف چند گھنٹوں کی مشاورت کے بعد جیوری نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ہادی مطر نے سرحد پار دہشت گردی کی کارروائی انجام دی۔ اس حملے میں سلمان رشدی کو 15 مرتبہ چاقو مارا گیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور ان کی دائیں آنکھ کی بینائی ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی۔

استغاثہ کے مطابق ہادی مطر کا حملہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی کی 1989 میں جاری کردہ اس فتویٰ سے متاثر تھا، جس میں سلمان رشدی کو اسکے ناول “دی سیٹانک ورسز” کی وجہ سے قتل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

امریکی محکمہ انصاف کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جان آئزن برگ نے فیصلے کے بعد کہا کہ یہ حملہ ایرانی دہشت گردی کے عالمی اثر و رسوخ کی ایک خوفناک مثال ہے، جبکہ ایران کی حکومت نے اس حملے میں کسی بھی قسم کے کردار کی تردید کی ہے۔

دورانِ سماعت شیطان صفت سلمان رشدی نے عدالت کو بتایا کہ وہ حملہ آور کے ارادوں سے واقف نہیں تھا، تاہم اس کے جسم پر لگنے والے زخم انتہائی شدید تھے۔

دوسری جانب دفاعی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ ہادی مطر کے ذہن میں حملے کے وقت کیا ارادہ تھا، جبکہ ملزم نے خود عدالت میں گواہی دینے سے انکار کیا۔

28 سالہ ہادی مطر پہلے ہی ریاست نیویارک کی عدالت سے قتل کی کوشش کے جرم میں 25 سال قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ وفاقی مقدمے میں سزا کا اعلان 3 نومبر کو کیا جائے گا، جہاں اسے عمر قید کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔

استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ہادی مطر کئی ماہ تک سلمان رشدی کی نقل و حرکت پر نظر رکھتا رہا، اس کی عوامی تقریبات کا سراغ لگاتا رہا اور آخرکار اگست 2022 میں نیویارک کے چاٹاکوا انسٹی ٹیوشن میں ہونے والی تقریب کے دوران اس نے اس حملے کو انجام دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں