تعلیم، میڈیا، ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ کے بعد کھیلوں کی بھگوا کاری؟ ہندوستانی ہاکی ٹیم کی جرسی کا رنگ بھگوا کردیا گیا! سیاسی بحث تیز

حیدرآباد (دکن فائلز) ہندوستانی مردوں اور خواتین کی ہاکی ٹیموں کے لیے آئندہ ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ میں روایتی نیلی جرسی کے بجائے بھگوا (زعفرانی) رنگ کی جرسی متعارف کرائے جانے کے بعد ملک میں سیاسی اور کھیلوں کے حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ اس فیصلے پر بعض ناقدین نے اسے کھیلوں کی “بھگوا کاری” قرار دیا، جبکہ ہاکی انڈیا نے اس تبدیلی کو مکمل طور پر تکنیکی فیصلہ بتایا ہے۔

بعض اپوزیشن رہنماؤں اور ناقدین نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ “تعلیم، میڈیا کے بعد کیا اب کھیلوں میں بھی بھگوا کرن کیا جا رہا ہے؟” تاہم یہ ان کا سیاسی مؤقف ہے، نہ کہ ثابت شدہ حقیقت۔

دوسری جانب ہاکی انڈیا نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ جرسی کا رنگ تبدیل کرنے کا فیصلہ کوچز، سپورٹ اسٹاف اور کھلاڑیوں سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔ ادارے کے مطابق بین الاقوامی ہاکی میں اب زیادہ تر نیلے مصنوعی ٹرف استعمال ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے نیلی جرسی اور میدان کا رنگ ایک جیسا دکھائی دیتا تھا اور کھلاڑیوں کی بصری شناخت متاثر ہوتی تھی۔ اسی لیے متبادل رنگوں پر غور کیا گیا اور آخرکار زعفرانی رنگ منتخب کیا گیا، جو ہندوستانی قومی پرچم کے تین رنگوں میں سے ایک بھی ہے۔

ہاکی انڈیا نے یہ بھی کہا کہ جرسی کے رنگ میں تبدیلی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی مختلف عالمی ٹورنامنٹس میں ہندوستانی ہاکی ٹیم زرد اور آسمانی نیلے رنگ کی جرسیاں پہن چکی ہے۔ تاہم سابق ہندوستانی کپتان اور اولمپین ویرین راسکینہ نے اس فیصلے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ ہندوستانی ہاکی کی شناخت طویل عرصے سے نیلی جرسی رہی ہے، جسے تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے، جہاں ایک طرف کچھ صارفین اس فیصلے کو قومی پرچم کے رنگ سے جوڑ کر درست قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب کئی صارفین اور سابق کھلاڑی روایتی نیلی جرسی برقرار رکھنے کی حمایت کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں