حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے ریاست کی تعلیمی پالیسیوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی تنقید کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نے اسکول تعمیر کیے، طلبہ کو مفت ناشتہ، دوپہر کا کھانا اور اسنیکس فراہم کیے اور ریاست کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنایا ہے، تو کیا اسی وجہ سے وہ استعفیٰ دے دیں؟
ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ کی تعلیمی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور ریاست قومی سطح پر 28ویں مقام سے ترقی کرکے 18ویں مقام پر پہنچ گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت حکومت کی تعلیمی اصلاحات اور طلبہ دوست پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی رہنما ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر وہ یہ بتائیں کہ آخر کس بات پر استعفیٰ دیا جائے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ “کیا نئے اسکول بنانے پر استعفیٰ دوں؟ کیا بچوں کو مفت ناشتہ، دوپہر کا کھانا اور اسنیکس دینے پر استعفیٰ دوں؟”
وزیراعلیٰ نے اپنی سیاسی مدت کے حوالے سے بھی بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ وہ 2034 تک تلنگانہ کے وزیراعلیٰ رہیں گے۔ انہوں نے اساتذہ اور تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد سے اپیل کی کہ وہ آئندہ برسوں میں ریاست کے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں۔
ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاست کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے وہ تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے مسلسل مطالعہ کرتے رہتے ہیں اور اسی مقصد کے تحت ہارورڈ یونیورسٹی بھی گئے تھے تاکہ دنیا کے جدید تعلیمی ماڈلز کو سمجھ کر تلنگانہ میں نافذ کیا جا سکے۔
ایم سی آر ایچ آر ڈی میں فن لینڈ اور جرمنی کے مطالعاتی دورے سے واپس آنے والے اساتذہ کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہر مرتبہ جب حکومت تعلیمی اصلاحات متعارف کراتی ہے تو بعض اساتذہ تنظیموں کے رہنما ان پر تنقید کرتے ہیں، لیکن ان کی ذاتی مشکلات حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہاکہ “آپ اپنی ذاتی مشکلات مجھے سونپ دیں، میں انہیں حل کروں گا۔ اب آپ اپنی نہیں بلکہ طلبا کے مستقبل کے لیے حکومت سے سوال کریں۔” وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے اساتذہ کے تبادلوں اور ترقیوں کا عمل بھی آسان بنایا ہے اور انہیں ان کے گھروں تک سہولت پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ان کی حکومت نے صرف 55 دنوں میں 11 ہزار اساتذہ کی تقرری کی، جو ایک ریکارڈ ہے۔ ریونت ریڈی نے اساتذہ تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ آئندہ پانچ برسوں کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کریں تاکہ تلنگانہ کا تعلیمی نظام دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے لیے بھی مثال بن سکے۔
انہوں نے کہا کہ اگر سب مل کر کام کریں تو تعلیم کے شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جا سکتی ہے اور تلنگانہ نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے لیے بھی ایک مثالی تعلیمی ماڈل بن سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ آئندہ ہر چھ ماہ بعد اساتذہ تنظیموں کے ساتھ خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے گا تاکہ ان کے مسائل براہِ راست سنے اور حل کیے جا سکیں۔


