ہندوستانی نژاد طالبہ عائشہ آصف امریکہ کے باوقار سائنس مقابلے کے فائنل میں پہنچ گئیں، مسلم طالبات کے لیے مشعلِ راہ

حیدرآباد (دکن فائلز) امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں رہنے والی 12 سالہ ہندوستانی نژاد طالبہ عائشہ آصف نے اپنی غیر معمولی سائنسی صلاحیتوں سے ایک نئی مثال قائم کرتے ہوئے امریکہ کے باوقار “3M ینگ سائنٹسٹ چیلنج” کے فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ ماحول دوست اور قدرتی اجزا پر مبنی ایک منفرد گوند (Adhesive) تیار کرنے کے ان کے اختراعی منصوبے کو مقابلے کے بہترین منصوبوں میں شامل کیا گیا ہے۔

عائشہ کو اس منصوبے کی تحریک سمندر کے کنارے چٹانوں سے مضبوطی سے چمٹی رہنے والی بارنیکل (Barnacles) نامی سیپوں سے ملی۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ سمندر کی تیز اور طاقتور لہریں بھی ان سیپوں کو چٹانوں سے جدا نہیں کر پاتیں۔ یہی قدرتی صلاحیت ان کے لیے ایک نئے سائنسی منصوبے کی بنیاد بنی۔

عائشہ کے مطابق گھروں اور صنعتوں میں استعمال ہونے والی بیشتر مصنوعی گوند میں وولیٹائل آرگینک کمپاؤنڈز (VOCs) جیسے مضر کیمیائی مادے شامل ہوتے ہیں، جو فضائی آلودگی میں اضافے کے ساتھ انسانی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

اسی مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے انہوں نے قدرت کا رخ کیا اور بارنیکل کے جسم سے خارج ہونے والے قدرتی چپکنے والے مادے کا مطالعہ شروع کیا۔ ان کے منصوبے کا مقصد قدرتی پروٹینز اور آئرن پر مبنی اجزا کی مدد سے ایسی ماحول دوست گوند تیار کرنا ہے، جو موجودہ کیمیائی گوند کا مؤثر اور محفوظ متبادل بن سکے۔

عائشہ کا کہنا ہے کہ “مجھے اپنے اردگرد کی دنیا سے سیکھنا اور حقیقی زندگی کے مسائل کے عملی حل تلاش کرنا بہت پسند ہے۔”

3M ینگ سائنٹسٹ چیلنج امریکہ کا ایک نہایت باوقار سائنسی مقابلہ ہے، جسے ڈسکوری ایجوکیشن اور 3M کمپنی مشترکہ طور پر منعقد کرتی ہیں۔ اس میں امریکہ بھر سے پانچویں سے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ حصہ لیتے ہیں۔

رواں سال ہزاروں امیدواروں میں سے صرف 10 طلبہ کو فائنل کے لیے منتخب کیا گیا، جن میں عائشہ آصف بھی شامل ہیں۔ مقابلے کے فاتح کو **”امریکہ کا بہترین نوجوان سائنس دان” کا اعزاز اور 25 ہزار امریکی ڈالر انعام کے طور پر دیے جائیں گے۔

فائنل مرحلے کے دوران ہر امیدوار کی رہنمائی کے لیے 3M کمپنی کا ایک سینئر سائنس دان بطور مینٹور مقرر کیا جاتا ہے۔ عائشہ کی رہنمائی معروف سائنس دان ڈاکٹر روہت گپتا کریں گے، جن کی نگرانی میں وہ اپنے منصوبے کو مزید بہتر بنا کر اکتوبر میں ہونے والے فائنل مقابلے میں پیش کریں گی۔

عائشہ آصف کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں ماحولیاتی سائنس دان بننا چاہتی ہیں اور اپنی تحقیق و اختراعات کے ذریعے دنیا میں مثبت تبدیلی لانے کا خواب رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقابلے کے حتمی نتائج ابھی آنا باقی ہیں، تاہم قدرت سے تحریک لے کر ماحولیات کے ایک اہم مسئلے کا حل تلاش کرنے کی اس کم عمر طالبہ کی کوشش پہلے ہی دنیا بھر کے نوجوانوں، خصوصاً مسلم طالبات کے لیے ایک روشن مثال اور مشعلِ راہ بن چکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں