حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع متنازع کمال مولیٰ ۔ بھوج شالا کمپلیکس سے متعلق اہم عبوری حکم جاری کرتے ہوئے مسلم فریق کو قریبی درگاہ کی زمین پر جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے ریاستی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ اس انتظام پر فوری طور پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ، جس میں جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا بھی شامل تھے، نے واضح کیا کہ عدالت کے 14 جولائی کے عبوری حکم پر مکمل طور پر عمل ہونا چاہیے اور مسلم برادری کو متنازع مقام سے متصل یا قریبی جگہ پر نماز جمعہ کی سہولت فراہم کی جائے۔
سماعت کے دوران مسلم فریق کی جانب سے سینئر وکیل حذیفہ احمدی نے مؤقف اختیار کیا کہ ضلعی انتظامیہ نے جو زمین مختص کی تھی وہ متنازع بھوج شالا کمپلیکس سے کافی دور تھی، جس کے باعث نمازیوں کو دشواری پیش آ رہی تھی اور سپریم کورٹ کے احکامات کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بھوج شالا کے قریب واقع درگاہ کے سامنے موجود زمین نماز کے لیے موزوں ہے اور وہی مختص کی جانی چاہیے۔
اس پر مدھیہ پردیش حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو یقین دلایا کہ حکومت عدالت کے احکامات پر مکمل عمل کرے گی اور مناسب قریبی مقام فراہم کرے گی۔ بعد ازاں عدالت نے واضح کیا کہ مسلم برادری درگاہ سے متصل مخصوص زمین پر جمعہ کی نماز ادا کر سکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ یہ اجازت صرف عبوری انتظام کے طور پر دی جا رہی ہے اور اس سے مقدمے کے حتمی فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ عدالت نے دونوں فریقوں کو ہدایت دی کہ مذہبی رسومات کی ادائیگی کے دوران ایک دوسرے کی آمد و رفت یا عبادت میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ کی جائے اور امن و امان برقرار رکھا جائے۔
یہ معاملہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے 15 مئی 2026 کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ پہنچا تھا، جس میں بھوج شالا کمپلیکس کو دیوی سرسوتی (واگ دیوی) کا مندر قرار دیتے ہوئے وہاں نماز کی اجازت ختم کر دی گئی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف مختلف مسلم فریقوں نے سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی ہیں، جن پر عدالت عظمیٰ سماعت کر رہی ہے۔
قبل ازیں 14 جولائی کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر فوری روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے مسلمانوں کو متنازع کمپلیکس کے اندر نماز کی اجازت بحال نہیں کی تھی، تاہم ریاستی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ حتمی فیصلے تک جمعہ کے روز دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان نماز کی ادائیگی کے لیے متنازع مقام کے قریب الگ کھلی جگہ فراہم کی جائے۔
تازہ حکم کے بعد سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ عدالت کی ہدایات پر مکمل اور فوری عمل درآمد کو یقینی بنائے تاکہ عبوری انتظام کے تحت مسلم برادری کو جمعہ کی نماز کی ادائیگی میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے، جبکہ اصل مقدمے کی سماعت اور حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔


