بارش کے موسم میں فالج کا خطرہ کیوں بڑھ جاتا ہے؟ ماہرین نے جان بچانے والی احتیاطی تدابیر بتا دیں

حیدرآباد (دکن فائلز | ہیلتھ ڈیسک) بارش کا موسم گرمی کی شدت سے وقتی راحت ضرور فراہم کرتا ہے، لیکن یہی خوشگوار موسم بعض افراد کے لیے صحت کے سنگین خطرات بھی ساتھ لاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق مون سون کے دوران درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی، ہوا میں نمی کا غیر معمولی اضافہ، وائرل انفیکشنز اور جسمانی معمولات میں تبدیلی ایسے عوامل ہیں جو فالج (اسٹروک) سمیت کئی خطرناک بیماریوں کے امکانات میں اضافہ کر سکتے ہیں، خصوصاً ان افراد میں جو پہلے ہی ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، بلند کولیسٹرول یا دل کے امراض میں مبتلا ہوں۔

نیورولوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون کے موسم میں جسم کو ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے میں زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ درجہ حرارت اور نمی میں بار بار تبدیلی کی وجہ سے بعض افراد کا بلڈ پریشر اچانک بڑھ یا کم ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دماغ کو خون پہنچانے والی شریانیں متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی صورتحال فالج کے خطرے میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بارشوں کے موسم میں نزلہ، زکام، وائرل بخار، معدے کی بیماریاں، کھانسی اور پانی کی کمی جیسے مسائل عام ہو جاتے ہیں۔ یہ تمام عوامل جسم پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں، جس سے ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بیماری کو قابو میں رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اگر ایسے مریض بروقت احتیاط نہ کریں تو فالج یا دل کے دورے جیسے جان لیوا مسائل پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مون سون کے دوران اکثر لوگ گھر میں زیادہ وقت گزارتے ہیں، جس کی وجہ سے جسمانی سرگرمی کم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بے قاعدہ نیند، غیر متوازن غذا، زیادہ نمک اور چکنائی والی اشیاء کا استعمال، ادویات وقت پر نہ لینا اور پانی کم پینا بھی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ فالج کسی بھی موسم میں اچانک ہو سکتا ہے، اس لیے اس کی ابتدائی علامات سے آگاہ ہونا ہر شخص کے لیے ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے دنیا بھر میں “BE FAST” اصول کو مؤثر رہنما تصور کیا جاتا ہے۔

اس اصول کے مطابق اگر کسی شخص میں اچانک توازن بگڑ جائے، بینائی دھندلی ہو جائے، چہرے کا ایک حصہ لٹک جائے، بازو یا ٹانگ میں کمزوری محسوس ہو یا بولنے میں دشواری پیش آئے تو یہ فالج کی علامات ہو سکتی ہیں اور ایسی صورت میں ایک لمحہ ضائع کیے بغیر قریبی اسپتال پہنچنا چاہیے۔

BE FAST کا مطلب:
* B (Balance): اچانک جسمانی توازن خراب ہونا۔
* E (Eyes): بینائی میں اچانک تبدیلی یا دھندلا پن۔
* F (Face): چہرے کا ایک طرف جھک جانا۔
* A (Arms): بازو یا ٹانگ میں اچانک کمزوری یا سن ہونا۔
* S (Speech): بولنے یا الفاظ ادا کرنے میں دشواری۔
* T (Time): فوراً طبی امداد حاصل کریں، کیونکہ ہر منٹ قیمتی ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فالج کے بعد ابتدائی چند گھنٹے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ اگر مریض کو بروقت علاج مل جائے تو نہ صرف جان بچائی جا سکتی ہے بلکہ مستقل معذوری کے امکانات بھی نمایاں حد تک کم کیے جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق درج ذیل افراد مون سون کے موسم میں خصوصی احتیاط اختیار کریں:
* ہائی بلڈ پریشر کے مریض
* ذیابیطس کے مریض
* بلند کولیسٹرول کے شکار افراد
* دل کے امراض میں مبتلا مریض
* فالج یا ہارٹ اٹیک کی سابقہ ہسٹری رکھنے والے افراد
* بزرگ شہری

فالج سے بچنے کے لیے ماہرین کی اہم ہدایات:
صحت کے ماہرین کا مشورہ ہے کہ مون سون کے دوران بلڈ پریشر، بلڈ شوگر اور کولیسٹرول کی باقاعدہ جانچ کروائیں، ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات وقت پر استعمال کریں، روزانہ ہلکی جسمانی ورزش یا چہل قدمی کو معمول بنائیں، متوازن غذا اختیار کریں، نمک اور چکنائی کا استعمال کم کریں، مناسب مقدار میں پانی پئیں اور تمباکو نوشی و دیگر مضر عادات سے مکمل پرہیز کریں۔

ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ بارشوں کے موسم میں صفائی کا خاص خیال رکھا جائے، صاف پانی استعمال کیا جائے اور انفیکشن سے بچاؤ کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں، کیونکہ معمولی بیماری بھی کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد کے لیے سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون بذاتِ خود کوئی خطرناک موسم نہیں، لیکن پہلے سے موجود بیماریوں کو نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، کولیسٹرول اور دل کے امراض کو مناسب انداز میں قابو میں رکھا جائے اور صحت مند طرزِ زندگی اپنایا جائے تو فالج سمیت کئی جان لیوا بیماریوں کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں