وندے ماترم پر جبر، آئین اور مذہبی آزادی کے خلاف! یہ بل انتخابی سیاست، فرقہ وارانہ ایجنڈے اور عوام کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹانے کی کوشش: قانونی راستہ اختیار کرنے مولانا ارشد مدنی کا اعلان

نئی دہلی (پریس نوٹ) پارلیامنٹ میں “قومی احترام کی توہین کی روک تھام (ترمیمی )بل، 2026 (Prevention of Insults to National Honour Amendment) Bill) میں منظور کیا گیا اس بل کا مقصد موجودہ قانون میں ترمیم کرکے “وندے ماترم” کی دانستہ توہین یا اس کی گائیکی میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالنے کو بھی قابلِ سزا جرم بنانا ہے، جیسا کہ پہلے قومی پرچم، آئین اور قومی ترانے کے حوالے سے قانون موجود ہے۔

اس ترمیمی بل منظور ہونے کے بعد صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی اپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی قانون سازی آئین اور مذہبی آزادی پر ایک سنگین حملہ انھوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ ہمیں کسی کے وندے ماترم پڑھنے اورگانے پر اعتراض نہیں مگر ہم یہ بات ایک بارپھر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ مسلمان ایک اللہ کی عبادت کرتاہے ، اوراپنی اس عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کرسکتا۔انہوں نے آگے کہا کہ وندے ماترم نظم کے مشمولات شرکیہ عقائد وافکار پر مبنی ہیں، بالخصوص اس کے چار اشعار میں واضح طورپر وطن کو برادر وطن کے معبودـ‘ در گاما تا’ سے تشبیہ دے کر اس کی عبادت کے لئے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، جو کسی بھی مسلمان کے بنیادی عقیدے اور ایمان کے خلاف ہے کیونکہ اسلام اللہ کےعلاوہ کسی کے آگےسرجھکانے سےمنع کرتاہےاور، ہندوستان کا دستور بھی ہر شہری کو مذہبی آزادی (دفعہ (25) اور اظہار رائے کی آزادی (دفعہ 19) فراہم کرتا ہے۔ ان دفعات کے تحت کسی بھی شہری کو اس کے مذہبی عقیدے اور جذبات کے خلاف کسی نعرے ،گیت یا نظریے کو اپنانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

مولانا مدنی نے بجوئے ایمینوئل بنام ریاست کیرالہ ، (1986) 615 CC 3 کیس کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک اہم آئینی قانونی فیصلہ تھا، جو ضمیر کی آزادی، مذہبی آزادی اور آئین ہند کے تحت جبری اظہار خیال (compelled expression) کی حدود سے متعلق ہے۔

جس میں ۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ آرٹیکل 25 کے تحت ریاست کسی مذہبی عقیدے میں مداخلت نہیں کر سکتی، الا یہ کہ اس سے امن عامہ، اخلاقیات یا صحت عامہ متاثر ہو۔سپریم کورٹ نے واضح طور پر تسلیم کیا کہ اظہار رائے کی آزادی میں خاموش رہنے کا حق بھی شامل ہے اور کسی شخص کو اس کے عقائد کے خلاف زبانی اظہار میں شریک ہونے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ احترام کے ساتھ عدم شرکت کو بے احترامی نہیں کہا جا سکتا۔

مولانا مدنی مزید کہا کہ وطن سے محبت الگ چیز ہے اور اس کی عبادت دوسری چیز ۔جمسلمانوں کواس ملک سے کتنی محبت ہے اس کے لئے ان کو کسی کے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ جنگ آزادی میں مسلمانوں اور جمعیۃ علماء ہند کے اکابرین کی بے مثال قربانیاں اور خاص طور پر وطن کی تقسیم کے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی کوششیں روز روشن کی طرح عیاں ہے۔اورآزادی کے بعد اس ملک کے اتحاد و سلامتی کے لئے ان کی جدوجہد کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی۔ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ حب الوطنی کا تعلق دلوں کی وفاداری اور عمل سے ہے، نعرے بازی سے نہیں

مولانا مدنی نے اخیر میں کہاکہ جب ملک اس وقت بے روزگاری، مہنگائی، معاشی سست روی، کسانوں کے بحران اور نوجوانوں کے مستقبل جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، ایسے وقت میں مذہبی حساسیت رکھنے والے متنازع معاملات کو ترجیح دینا افسوسناک ہے۔ پارلیمنٹ کو عوام کے حقیقی مسائل پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں