حیدرآباد (دکن فائلز) مودی اور ہندوتوا کی جارحانہ دفاعی سیاست کے لیے مشہور بی جے پی کے قومی ترجمان شہزاد پوناوالا نے ذاتی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے استعفیٰ دے دیا، سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہوگئیں۔
ٹی وی مباحثوں میں وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی اور ہندوتوا کے مؤقف کا جارحانہ انداز میں دفاع کرنے والے بی جے پی کے قومی ترجمان شہزاد پوناوالا نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اچانک فیصلے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ وہ گزشتہ چند برسوں سے بی جے پی کے نمایاں مسلم چہروں میں شمار کیے جاتے تھے۔
رپورٹس کے مطابق شہزاد پوناوالا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے تعارف (بایو) سے “BJP National Spokesperson” کا ذکر ہٹا دیا تھا، جس کے بعد ان کے پارٹی چھوڑنے کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ بعد ازاں مختلف میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر بی جے پی سے استعفیٰ دے دیا ہے، تاہم انہوں نے فوری طور پر اپنے فیصلے کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں رکھیں۔
شہزاد پوناوالا پہلے کانگریس سے وابستہ تھے، لیکن پارٹی قیادت پر تنقید کے بعد انہوں نے کانگریس چھوڑ دی اور بعد میں بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد وہ ٹی وی مباحثوں اور پریس کانفرنسوں میں پارٹی کے سب سے سرگرم ترجمانوں میں شمار ہونے لگے۔ وہ اپوزیشن جماعتوں، خصوصاً کانگریس، پر سخت حملوں اور مودی حکومت کے دفاع کے باعث مسلسل خبروں میں رہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق شہزاد پوناوالا کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بی جے پی مختلف سیاسی اور عوامی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کے اچانک فیصلے نے یہ سوال بھی پیدا کر دیا ہے کہ آیا وہ مستقبل میں کسی دوسری سیاسی جماعت میں شامل ہوں گے یا کچھ عرصے کے لیے فعال سیاست سے دور رہیں گے۔ تاہم اس بارے میں ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب بی جے پی کی جانب سے بھی فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تفصیلی ردِعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ سوشل میڈیا پر ان کے استعفے کو لے کر مختلف تبصرے اور قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ان کے فیصلے کے پس منظر میں صرف “ذاتی وجوہات” بیان کی گئی ہیں، تاہم اصل سبب ابھی واضح نہیں ہو سکا۔


