گالیوں پر مودی حکومت کا دہرا رویہ، ہندوتوا کارکنوں کو عام معافی لیکن۔۔۔! طلبا رہنماؤں نے بی جے پی پر جانبداری کا لگایا الزام، بھگوا آئی ٹی سیل اور فرقہ پرستوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں؟

حیدرآباد (دکن فائلز) جنتر منتر پر این ای ای ٹی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ قابل اعتراض زبان استعمال کرنے کے معاملے پر درج ایف آئی آرز کے بعد تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ احتجاج کی قیادت کرنے والی طلبہ تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (ایسا) کی صدر نیہا اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے حکومت پر گالی گلوچ کے معاملے میں مبینہ دوہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

ایسا کی صدر نیہا، جنہوں نے جنتر منتر پر 23 روزہ بھوک ہڑتال بھی کی، نے احتجاج کے دوران بعض مظاہرین کی جانب سے استعمال کی گئی قابل اعتراض زبان پر معافی مانگنے یا اس کی مذمت کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ الفاظ نہیں بلکہ 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس کی کارروائی، مبینہ پیلٹ گن کے استعمال اور طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ہے، لیکن ان تمام معاملات سے توجہ ہٹانے کے لیے زبان کے تنازع کو بڑھایا جا رہا ہے۔

نیہا نے کہا، “ہمیں گالیوں کی مذمت کرنے کو کہا جا رہا ہے، لیکن ہم یہ کھیل نہیں کھیلیں گے۔ ہم امت شاہ اور دہلی پولیس کمشنر سے جواب مانگ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ طلبہ پر پیلٹ گن کیوں استعمال کی گئی؟ آنسو گیس اور دیگر طاقت کیوں استعمال کی گئی؟”

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی قابل اعتراض زبان کے خلاف ہے تو پھر وزیر دھرمیندر پردھان کی جانب سے طلبہ کو “دہشت گرد” قرار دینے یا دیگر رہنماؤں کے بیانات پر بھی کارروائی ہونی چاہیے تھی۔ نیہا نے 15 سالہ احتجاجی طالبہ روچیکا سنگھ کے خلاف درج متعدد مقدمات کو “منتخب برہمی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اور روچیکا دونوں کو سوشل میڈیا پر عصمت دری کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کارروائی میں صنفی، مذہبی اور سماجی تفریق بھی نظر آ رہی ہے اور احتجاج کو کمزور کرنے کے لیے مختلف طبقات میں تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب، کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی صدر ابھیجیت دیپکے نے بھی روچیکا سنگھ کے خلاف درج ایف آئی آر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر گالی دینا جرم ہے تو پھر بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے ان کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے جو برسوں سے خواتین اور سیاسی مخالفین کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرتے رہے ہیں۔

ایکس پر جاری ایک ویڈیو میں دیپکے نے کہا، “اگر گالی دینے پر مقدمہ درج ہو سکتا ہے تو پھر بی جے پی آئی ٹی سیل کے ان لوگوں کے خلاف ایف آئی آر کب درج ہوگی جو برسوں سے خواتین کو آن لائن گالیاں دیتے آ رہے ہیں؟” انہوں نے دعویٰ کیا کہ متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس خود کو کھلے عام وزیر اعظم مودی کے حامی قرار دیتے ہیں لیکن خواتین کے خلاف انتہائی نامناسب زبان استعمال کرتے ہیں، اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔

دیپکے نے بی جے پی کے بعض رہنماؤں کے سابقہ بیانات کا بھی حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو ان معاملات میں ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا، “کیا اس ملک میں دو قانون ہیں؟ نوجوانوں کے لیے الگ قانون اور بی جے پی کے رہنماؤں اور ان کے حامیوں کے لیے الگ قانون؟”

سی جے پی کے بانی نے مزید کہا کہ گالی گلوچ اخلاقی طور پر غلط ضرور ہے، لیکن اگر صرف اسی بنیاد پر مقدمات درج کیے جائیں تو پھر قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب جنتر منتر احتجاج کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ قابل اعتراض زبان استعمال کرنے کے الزام میں 15 سالہ روچیکا سنگھ کے خلاف متعدد ایف آئی آر درج کی گئیں۔ نوئیڈا کے ایکسپریس وے پولیس اسٹیشن میں درج زیرو ایف آئی آر بعد میں مزید تفتیش کے لیے دہلی پولیس کو منتقل کر دی گئی۔

پولیس نے مقدمہ بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 352، 353(1) اور 356(1) کے تحت درج کیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں اور احتجاجی تنظیموں کا الزام ہے کہ اس معاملے میں قانون کا اطلاق یکساں انداز میں نہیں کیا جا رہا اور صرف حکومت کے ناقدین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں