’صاحب نے ’اردو میں ترنگا‘ ۔۔۔ یا پھر ہندوستان کے بجائے آئرلینڈ کا یومِ آزادی منا رہے ہیں! مودی کی تقریر پر کانگریس کا بڑا حملہ، ’اربن نکسلی‘ کے بعد ’دماغی نکسلی‘ کے بیان پر جے رام رمیش کا سخت ردعمل

حیدرآباد (دکن فائلز) یومِ آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر پر کانگریس نے شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعظم پہلے اپنے سیاسی مخالفین کو ’اربن نکسلی‘ یا ’دماغی نکسلی‘ قرار دیتے ہیں اور بعد میں انہی حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے مطالبات اور مسائل کو تسلیم کرلیتے ہیں۔ کانگریس نے مودی کے اس بیان کو ان کی سیاسی تقریر کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 12 سال بعد بھی وزیر اعظم کی تقریر میں کوئی نئی بات نظر نہیں آئی۔

کانگریس جنرل سکریٹری اور شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے وزیر اعظم کے یومِ آزادی خطاب پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی نے اپنے سیاسی مخالفین کو کبھی ’اربن نکسلی‘ اور اب ’دماغی نکسلی‘ کہنا شروع کردیا ہے، لیکن بعد میں انہی لوگوں کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل اور مطالبات کو حکومت تسلیم بھی کرتی رہی ہے۔

جے رام رمیش نے خاص طور پر ذات پر مبنی مردم شماری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس مطالبے کو پہلے ’اربن نکسلی‘ سوچ قرار دے کر مسترد کیا جاتا تھا، بعد میں حکومت نے خود ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا اعلان کردیا۔

انہوں نے کہا کہ چند سال قبل جب وزیر اعظم نے اپنے سیاسی مخالفین کو ’اربن نکسلی‘ قرار دیا تھا تو پارلیمنٹ میں یہ سوال بھی اٹھا تھا کہ آخر ’اربن نکسلی‘ کی تعریف کیا ہے۔ جے رام رمیش کے مطابق اس وقت مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ ’اربن نکسلی‘ نام کی کوئی اصطلاح یا اس کی کوئی باقاعدہ تعریف موجود نہیں ہے۔

جے رام رمیش نے کہا کہ ”آج وزیر اعظم لال قلعہ سے اپنے سیاسی مخالفین کے لیے ’دماغی نکسلی‘ کی اصطلاح استعمال کررہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بالآخر انہی لوگوں کے مسائل اور مطالبات کو تسلیم کرلیتے ہیں جنہیں وہ ’اربن نکسلی‘ قرار دیتے ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے پہلے ذات پر مبنی مردم شماری کے مطالبے کو ’اربن نکسلی‘ سوچ سے جوڑنے کی کوشش کی، لیکن تقریباً ایک سال قبل حکومت نے خود ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا اعلان کردیا۔

کانگریس رہنما نے طنزیہ انداز میں کہا کہ پہلے سیاسی مخالفین کے خلاف توہین آمیز اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں اور بعد میں انہی کے اٹھائے گئے مطالبات کو قبول کرلیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق نریندر مودی کی یومِ آزادی کی سیاسی تقریر میں 12 سال بعد بھی کوئی خاص نئی بات سامنے نہیں آئی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو یومِ آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں ماؤ نواز انتہاپسندی آخری سانسیں لے رہی ہے، تاہم ’دماغی نکسلی‘ کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔

وزیر اعظم نے الزام عائد کیا کہ ماؤ نواز سوچ رکھنے والے بعض افراد ماضی میں اثر و رسوخ رکھنے والے اہم عہدوں تک پہنچ گئے تھے اور اس نظریے نے حکومتی پالیسیوں کو بھی متاثر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے افراد مختلف سرکاری کمیٹیوں میں مشیر کی حیثیت سے بھی شامل رہے ہیں۔

مودی نے کہا کہ مسلح نکسلیزم کو جنگلات سے تقریباً ختم کردیا گیا ہے، لیکن ’دماغی نکسلی‘ اب بھی موقع کی تلاش میں ہیں۔ ان کے مطابق ایسے عناصر مختلف طریقوں سے معاشرے کو ایک غلط سمت میں لے جانے، تشدد اور اختلافات کے لیے ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے ایسے افراد کی ”شناخت کرنے اور انہیں الگ تھلگ کرنے“ پر زور دیا اور ملک کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کی قومی کوششوں کا حصہ بنیں۔

یومِ آزادی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کے لباس پر بھی کانگریس نے طنزیہ تبصرہ کیا۔ مودی نے لال قلعہ سے اپنے مسلسل 13ویں یومِ آزادی خطاب کے دوران سرخ رنگ کی ٹائی اینڈ ڈائی طرز کی پگڑی پہن رکھی تھی، جسے راجستھان اور گجرات کی روایتی ٹیکسٹائل ثقافت سے منسوب کیا جاتا ہے۔

انہوں نے سفید کرتا پاجامہ اور چاکلیٹ براؤن رنگ کی واسکٹ پہن رکھی تھی۔ ان کے لباس میں زعفرانی، سفید اور سبز رنگ کے تین جیب رومال بھی نمایاں تھے۔ سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے نشاندہی کی کہ جیب رومالوں میں رنگوں کی ترتیب ہندوستانی ترنگے زعفرانی، سفید اور سبز کے بجائے سبز، سفید اور زعفرانی دکھائی دے رہی تھی، جو آئرلینڈ کے قومی پرچم کے رنگوں کی ترتیب سے مشابہ ہے۔

کانگریس کے شعبۂ میڈیا و تشہیر کے سربراہ پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تقریب کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں لکھا کہ لگتا ہے صاحب نے ’اردو میں ترنگا‘ پہن رکھا ہے یا پھر ہندوستان کے بجائے آئرلینڈ کا یومِ آزادی منا رہے ہیں۔

پون کھیڑا کا یہ تبصرہ اردو رسم الخط کی دائیں سے بائیں سمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا گیا، یعنی ان کے مطابق جیب رومالوں میں ترنگے کے رنگ الٹی سمت میں دکھائی دے رہے تھے۔

واضح رہے کہ نریندر مودی کے یومِ آزادی اور یومِ جمہوریہ کے لباس گزشتہ ایک دہائی سے عوامی اور سیاسی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ خصوصاً ان کی مختلف طرز کی پگڑیاں ہر سال موضوعِ بحث بنتی رہی ہیں۔ 2014 میں سرخ جودھپوری بندھیج پگڑی سے لے کر بعد کے برسوں میں بندھنی اور لہریا طرز کی پگڑیوں تک، ان کے لباس کے رنگوں اور انداز کو سیاسی و ثقافتی علامتوں کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے۔

2022 میں بھی مودی نے ترنگے کے زعفرانی، سفید اور سبز رنگوں کی ترتیب سے مشابہ پگڑی پہن کر یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کی تھی۔ اس وقت اسے آزادی کے 75 سال مکمل ہونے کے پس منظر میں ایک علامتی انتخاب کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

یوں اس سال یومِ آزادی کے موقع پر وزیر اعظم کی تقریر میں ’دماغی نکسلی‘ کے ذکر اور ان کے لباس کے رنگوں کی ترتیب دونوں ہی اپوزیشن کانگریس کے لیے حکومت پر تنقید کا ذریعہ بن گئے۔ کانگریس نے ایک طرف مودی کے سیاسی بیانات کو سابقہ دعووں اور بعد میں اختیار کی گئی حکومتی پالیسیوں سے جوڑ کر تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ دوسری جانب ان کے لباس پر طنزیہ تبصرے کے ذریعے سیاسی حملہ کیا۔

کانگریس کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ حکومت جن مسائل اور مطالبات کو ابتدا میں اپنے سیاسی مخالفین کی سوچ قرار دے کر مسترد کرتی ہے، بعد میں انہی میں سے بعض مطالبات کو اپنی پالیسی کا حصہ بنا لیتی ہے۔ جے رام رمیش نے ذات پر مبنی مردم شماری کو اسی تناظر میں پیش کرتے ہوئے وزیر اعظم کی یومِ آزادی تقریر کو سیاسی نعروں کی تکرار قرار دیا۔

دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں ماؤ نواز تشدد کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ’دماغی نکسلی‘ کے خطرے کو بھی ایک اہم چیلنج قرار دیتے ہوئے ملک کے نوجوانوں سے قومی ترقی اور ’وکست بھارت‘ کی تعمیر کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی۔

یوں یومِ آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے وزیر اعظم کی تقریر کے بعد ’دماغی نکسلی‘ کا بیان، ذات پر مبنی مردم شماری اور سیاسی مخالفین سے متعلق مودی کے سابقہ بیانات ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں