مدارس و دینی اداروں میں جوش و خروش سے یومِ آزادی کی تقریبات، مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت

حیدرآباد (دکن فائلز) ملک بھر میں 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات مذہبی، تعلیمی اور سماجی اداروں میں بڑے جوش و خروش اور ملی جذبے کے ساتھ منائی گئیں۔ مختلف مدارس، دینی اداروں، تنظیموں، اسکولوں اور کالجوں میں قومی پرچم لہرایا گیا، خصوصی پروگرام منعقد کیے گئے اور ملک کی آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ہزاروں مجاہدینِ آزادی، خصوصاً علمائے کرام اور مسلمانوں کی بے مثال قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

مدارس اور دینی اداروں میں منعقدہ یومِ آزادی کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کسی ایک طبقے یا برادری کی جدوجہد کا نتیجہ نہیں بلکہ مختلف مذاہب، زبانوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے لاکھوں ہندوستانیوں کی مشترکہ قربانیوں کا ثمر ہے۔ آزادی کی جدوجہد میں علماء، دینی مدارس کے طلبہ، عام مسلمانوں اور دیگر اقوام کے افراد نے بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور اپنی جانیں قربان کیں۔

مقررین نے کہا کہ تاریخِ آزادی میں ان علماء اور مجاہدین کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا جنہوں نے برطانوی استعمار کے خلاف آواز بلند کی، تحریکوں کی قیادت کی اور آزادی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ آزادی کی تاریخ کا مطالعہ کرے اور ان تمام مجاہدینِ آزادی کی خدمات کو یاد رکھے جنہوں نے ملک کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرانے کے لیے جدوجہد کی۔

تقریبات کے دوران ملک میں نفرت، فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کو فروغ دینے والی سرگرمیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بعض مقررین نے آر ایس ایس اور دیگر فرقہ پرست تنظیموں کی مبینہ نفرت انگیز مہمات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد ہندوستان کو آئین، جمہوریت، مساوات اور بھائی چارے کے اصولوں پر آگے بڑھنا چاہیے، نہ کہ مذہب اور ذات کے نام پر معاشرے میں تقسیم پیدا کی جائے۔

مقررین نے الزام عائد کیا کہ جن عناصر نے تحریکِ آزادی میں قابلِ ذکر قربانی نہیں دی، وہ آج آزادی اور حب الوطنی کے دعوے کرتے ہوئے ملک کے سماجی تانے بانے کو کمزور کرنے والی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کا گنگا جمنی تہذیبی ورثہ، مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا باہمی احترام اور صدیوں پر محیط مشترکہ ثقافت ہے۔ انہوں نے ’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کی نوآبادیاتی ذہنیت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو نفرت نہیں بلکہ اتحاد، انصاف اور بھائی چارے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب ملک کے مختلف اسکولوں اور کالجوں میں مسلم نوجوانوں اور طلبہ نے بھی یومِ آزادی کی تقریبات میں بھرپور حصہ لیا۔ طلبہ نے قومی پرچم لہرایا، قومی ترانہ پڑھا اور مختلف ثقافتی و تعلیمی پروگراموں میں شرکت کی۔ اس موقع پر نوجوانوں نے ملک کی تعمیر و ترقی، تعلیم کے فروغ اور قوم و ملت کی خدمت کے لیے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے عزم کا اظہار کیا۔

یومِ آزادی کی تقریبات میں مسلم خواتین اور طالبات کی شرکت بھی نمایاں رہی۔ مختلف تعلیمی اور سماجی پروگراموں میں خواتین اور طالبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ تعلیم، سماجی خدمت اور قومی ترقی کے میدان میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گی۔ مقررین نے خواتین کی اس فعال شرکت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی میں خواتین کی مساوی اور باوقار شمولیت ناگزیر ہے۔

اس موقع پر علمائے کرام نے ہندوستان کی ترقی، استحکام، امن و امان، خوشحالی اور عوام کے درمیان باہمی محبت و اخوت کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔ ملک میں امن، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور آئینی حقوق کے تحفظ کی دعا کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہندوستان اس وقت ہی مضبوط اور ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے جب اس کے تمام شہری بلا تفریق مذہب، ذات اور زبان برابر کے حقوق کے ساتھ زندگی گزاریں۔

یومِ آزادی کی ان تقریبات میں مجموعی طور پر یہ پیغام دیا گیا کہ آزادی صرف جشن منانے کا نام نہیں بلکہ ان اصولوں کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ہے جن کے لیے مجاہدینِ آزادی نے قربانیاں دیں۔ مقررین نے نئی نسل سے اپیل کی کہ وہ نفرت اور تقسیم سے دور رہتے ہوئے تعلیم، اتحاد، انسانیت اور ملک کی خدمت کو اپنا مقصد بنائے اور ایک ایسے ہندوستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے جہاں ہر شہری کو عزت، انصاف، آزادی اور مساوات حاصل ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں