گریٹر حیدرآباد اور ورنگل میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں تیز، دسمبر میں پولنگ کا امکان

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ حکومت نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) اور ورنگل سمیت ان بلدیاتی اداروں میں انتخابات کے لیے تیاریوں کا عمل تیز کردیا ہے جہاں مختلف وجوہات کی بنا پر حالیہ بلدیاتی انتخابات نہیں ہوسکے تھے۔ موجودہ اطلاعات کے مطابق حکومت دسمبر 2026 کو انتخابات کے لیے ممکنہ وقت کے طور پر زیرِ غور رکھ رہی ہے، تاہم حتمی تاریخ اور انتخابی شیڈول کا ابھی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

تلنگانہ حکومت کے میونسپل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے حکام نے انتخابات سے متعلق انتظامی تیاریوں کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کے لیے ضروری انتظامی اقدامات، حلقہ بندی اور دیگر تیاریوں کو مکمل کرنے کے بعد ریاستی الیکشن کمیشن انتخابی پروگرام کو حتمی شکل دے گا۔

تلنگانہ میں فروری 2026 میں 116 میونسپلٹیز اور سات میونسپل کارپوریشنز کے انتخابات ہوئے تھے، لیکن GHMC، ورنگل اور کھمم سمیت بعض بڑے شہری اداروں میں اس وقت انتخابات نہیں ہوسکے کیونکہ ان کے موجودہ اداروں کی مدت ختم نہیں ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ منڈامری، منوگوڑو، اچم پیٹ، نکریکل، کوتور اور سدی پیٹ جیسے بعض علاقوں میں بھی مختلف وجوہات کی بنا پر انتخابات مؤخر کیے گئے تھے۔

جی ایچ ایم سی کی مدت 10 فروری کو ختم ہوئی تھی۔ اس کے بعد تلنگانہ حکومت نے حیدرآباد کے شہری انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے سابقہ GHMC کے علاقے کو تین الگ میونسپل کارپوریشنز میں تقسیم کیا۔ نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت حیدرآباد، ملکاجگری اور سائبر آباد کے لیے الگ شہری کارپوریشنز قائم کی گئی ہیں۔ اس تنظیمِ نو کے باعث بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے قبل انتظامی اور انتخابی سطح پر کئی اہم مراحل مکمل کرنا ضروری ہوگیا ہے۔

نئی کارپوریشنز کے قیام کے بعد حلقہ بندی، وارڈز کی تنظیم، انتظامی حدود کے تعین اور دیگر انتخابی امور کو مکمل کرنا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ فوری طور پر انتخابات کرانے کے بجائے حکام کو تیاری کے لیے اضافی وقت درکار ہے۔ تلنگانہ میں جاری ایس آئی آر بھی اس وقت حکومت اور انتخابی انتظامیہ کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق یہ عمل 19 اکتوبر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

حکومت SIR کے عمل کے اختتام کے بعد بلدیاتی انتخابات کی جانب بڑھنے پر غور کرسکتی ہے۔ اس صورت میں انتخابی اور انتظامی تیاریوں کے لیے اضافی وقت ملے گا اور دسمبر میں انتخابات کرانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ اگرچہ دسمبر کو ممکنہ انتخابی مدت کے طور پر دیکھا جارہا ہے، لیکن ابھی اسے حتمی تاریخ نہیں کہا جاسکتا۔

حتمی انتخابی پروگرام جاری کرنے میں تلنگانہ اسٹیٹ الیکشن کمیشن کا اہم کردار ہوگا۔ حکومت اور الیکشن کمیشن انتظامی تیاری، حلقہ بندی، ووٹر فہرستوں، موسم اور دیگر عملی امور کا جائزہ لینے کے بعد پولنگ کی تاریخوں کا فیصلہ کریں گے۔

حکام موسم کی صورتِ حال اور ووٹروں کی سہولت کو بھی مدنظر رکھ سکتے ہیں، خاص طور پر حیدرآباد اور ورنگل جیسے بڑے شہری علاقوں میں جہاں بلدیاتی انتخابات کے دوران وسیع انتظامات درکار ہوتے ہیں۔

ان انتخابات کے نتائج ریاست کی بڑی سیاسی جماعتوں کی شہری علاقوں میں مقبولیت اور تنظیمی طاقت کا ایک اہم اشارہ بن سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے کانگریس، بی آر ایس، بی جے پی، مجلس اور دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے یہ انتخابات خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

تازہ اطلاعات کے مطابق دسمبر کو ممکنہ وقت کے طور پر زیرِ غور رکھا گیا ہے، لیکن فی الحال کوئی حتمی انتخابی تاریخ مقرر نہیں ہوئی۔ سرکاری نوٹیفکیشن اور ریاستی الیکشن کمیشن کے باضابطہ انتخابی پروگرام کے بعد ہی پولنگ کی تاریخ، امیدواروں کے کاغذات نامزدگی اور دیگر مراحل کی حتمی تفصیلات سامنے آئیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں