اتراکھنڈ ایس آئی آر میں مسلم دشمنی و ہندوتوا سازش کا انکشاف؟ مسلم آبادی والے اضلاع میں ووٹوں کے اخراج کی شرح زیادہ! بڑی تعداد میں مسلم ووٹروں کے خلاف اجتماعی اعتراضات (مختلف رپورٹس میں انتہائی تشویشناک انکشافات!!!)

حیدرآباد (دکن فائلز) اتراکھنڈ میں 2026 کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران انتخابی فہرستوں سے ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے معاملے نے ایک بار پھر انتخابی شفافیت، حقِ رائے دہی اور ممکنہ طور پر کمزور طبقات کے اخراج سے متعلق سوالات کو نمایاں کردیا ہے۔ ایک نئی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ریاست کے ان اضلاع میں جہاں مسلم آبادی کا تناسب نسبتاً زیادہ ہے، وہاں ووٹر فہرست سے نام حذف کیے جانے کی شدت بھی زیادہ دیکھی گئی ہے۔

یہ تجزیہ صابر انسٹی ٹیوٹ کی ابتدائی تحقیق پر مبنی ہے، جس میں اتراکھنڈ کے تمام 70 اسمبلی حلقوں اور 13 اضلاع میں ایس آئی آر کے دوران سامنے آنے والے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 8,07,410 ASD ووٹرز کی نشاندہی ہوئی، تاہم ادارے نے واضح کیا ہے کہ یہ حتمی تعداد نہیں بلکہ کم از کم تخمینہ ہے، کیونکہ ریاست کے 12,543 پولنگ حصوں میں سے 415 کا ڈیٹا تجزیے کے وقت دستیاب نہیں تھا۔

رپورٹ کا سب سے اہم پہلو مسلم آبادی کے تناسب اور ووٹر فہرست سے نام حذف کیے جانے کی شدت کے درمیان پایا جانے والا شماریاتی تعلق ہے۔ تجزیے میں Pearson correlation 0.54 اور Spearman correlation 0.84 ریکارڈ کیا گیا۔ خاص طور پر 0.84 کا Spearman correlation اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ جن اضلاع میں مسلم آبادی کا تناسب زیادہ تھا، وہاں ووٹر حذف کیے جانے کی شدت بھی عمومی طور پر زیادہ رہی۔

تاہم یہاں ایک اہم احتیاط ضروری ہے۔ یہ اعداد و شمار بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتے کہ مسلمانوں کے نام جان بوجھ کر مذہبی بنیاد پر حذف کیے گئے۔ خود Sabar Institute نے بھی کہا ہے کہ یہ شماریاتی تعلق ممکنہ امتیازی کارروائی یا انتظامی بدعنوانی کا قطعی ثبوت نہیں ہے، بلکہ ایسا پیٹرن ہے جس کی مزید آزادانہ جانچ، وضاحت اور نگرانی ضروری ہے۔

یعنی رپورٹ کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ ’’مسلمانوں کے ووٹ لازماً جان بوجھ کر حذف کیے گئے‘‘ بلکہ یہ ہے کہ مسلم آبادی والے علاقوں میں اخراج کی شدت زیادہ کیوں رہی، اور کیا اس فرق کی کوئی قابلِ تصدیق انتظامی وجہ موجود ہے؟

تجزیے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اتراکھنڈ کے 70 میں سے 45 اسمبلی حلقوں میں SIR کے دوران حذف کیے گئے ووٹوں کی تعداد 2022 کے اسمبلی انتخابات میں کامیاب امیدوار کے جیت کے مارجن سے زیادہ تھی۔ یہ بات انتخابی اعتبار سے خاصی اہم ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان حلقوں میں آئندہ انتخابات کا نتیجہ لازماً تبدیل ہوجائے گا، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ اگر بڑی تعداد میں اہل ووٹروں کے نام غلطی سے حذف ہوجاتے ہیں اور وہ بحال نہیں ہوتے تو بعض حلقوں میں انتخابی نتائج پر ممکنہ اثر پڑ سکتا ہے۔

خاص طور پر ایسے حلقوں میں جہاں گزشتہ انتخابات انتہائی کم فرق سے جیتے گئے ہوں، ووٹر فہرست میں ہزاروں ناموں کی تبدیلی سیاسی طور پر اہم ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ASD زمرے میں شامل متاثرہ ووٹروں میں 52 فیصد خواتین تھیں، جبکہ مردوں کا تناسب 48 فیصد تھا۔ اس کے علاوہ 40 تھرڈ جینڈر ووٹرز بھی اس فہرست میں شامل تھے۔

Sabar Institute نے حذف کیے گئے ووٹروں کے ناموں اور سرنیم کا بھی جائزہ لیا۔ اس میں علی، خان، احمد، بیگم، حسین اور جہاں جیسے نام سامنے آئے۔ لیکن رپورٹ نے اس سلسلے میں بھی احتیاط برتی ہے۔ ادارے نے واضح کیا کہ سرنیم کی بنیاد پر کسی فرد کا مذہب طے نہیں کیا گیا۔ لہٰذا محض نام یا سرنیم کی بنیاد پر یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ فلاں حذف شدہ ووٹر مسلمان تھا۔ یہ وضاحت صحافتی اعتبار سے اہم ہے، کیونکہ ناموں کے تجزیے کو مذہب کی قطعی شناخت سمجھنا سائنسی اور شماریاتی طور پر درست نہیں ہوگا۔

اس پورے معاملے کا دوسرا اہم پہلو Newslaundry کی تحقیق ہے، جس نے اتراکھنڈ کے مختلف اسمبلی حلقوں میں بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام حذف کرانے کے لیے دائر کیے گئے اعتراضات کا جائزہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق ریاست کے پانچ مختلف اسمبلی حلقوں میں پانچ افراد نے مجموعی طور پر تقریباً 6,500 اعتراضات دائر کیے، اور Newslaundry کی تحقیق کے مطابق ان اعتراضات میں نشانہ بنائے گئے تمام ووٹر مسلمان تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ مسلم دشمنی میں کیا جارہا ہے تاکہ مسلم ووٹرز کو نشانہ بنایا جاسکے۔ ان پانچ افراد کو ان کے متعلقہ حلقوں میں سب سے زیادہ اعتراضات دائر کرنے والے افراد میں شمار کیا گیا اور رپورٹ کے مطابق ان سب کا تعلق بی جے پی سے بتایا گیا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ہندوتوا کی کوئی ایک اور ناپاک سازش تو نہیں؟

کچھ اسمبلی حلقے میں صورتِ حال خاص طور پر قابلِ ذکر بتائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وہاں 4,857 اعتراضات میں سے 4,855 اعتراضات ایک ہی بی جے پی بوتھ لیول ایجنٹ نے دائر کیے۔ گدَرپور میں ایک بی جے پی عہدیدار کی جانب سے 670 اعتراضات دائر کیے گئے اور رپورٹ کے مطابق ان تمام اعتراضات کا ہدف مسلمان ووٹر تھے۔ اسی طرح کٹھیما میں 394 میں سے 392 اعتراضات ایک بی جے پی ضلعی نائب صدر اور بوتھ لیول ایجنٹ کی جانب سے دائر کیے گئے۔

نانک مٹہ میں بھی تقریباً 90 فیصد حذف کرنے کی درخواستیں ایک ہی بی جے پی بوتھ لیول ایجنٹ کی جانب سے دائر کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔ وہاں 353 میں سے 351 درخواستوں میں ووٹر کو ’’منتقل‘‘ قرار دیا گیا تھا۔ یہاں بھی یہ فرق برقرار رکھنا ضروری ہے کہ اعتراض دائر ہونا خود بخود یہ ثابت نہیں کرتا کہ ووٹر کا نام غیر قانونی طور پر حذف کردیا گیا ہے۔ حتمی فیصلہ انتخابی حکام کے تصدیقی عمل اور دستیاب اپیل کے طریقہ کار کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔

وہیں 45 اسمبلی حلقوں میں حذف شدہ ووٹوں کا گزشتہ انتخابی جیت کے مارجن سے زیادہ ہونا ایک ایسا پہلو ہے جسے محض سیاسی الزام یا اتفاق کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ SIR نے انتخابی نتائج تبدیل کردیے، لیکن یہ ضرور بتاتا ہے کہ حذف کیے گئے ووٹوں، بحال کیے گئے ووٹوں، زیرِ اعتراض ووٹوں اور حتمی فہرست میں شامل ووٹروں کا حلقہ وار ڈیٹا عوامی جانچ کے لیے دستیاب ہونا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں