حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کے مضافاتی علاقے مادھا پور میں ہفتہ کے روز ایک زیر تعمیر کثیر المنزلہ عمارت اچانک منہدم ہوگئی، جس کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ گچی باؤلی کے انجیا نگر علاقے میں پیش آیا، جہاں زیر تعمیر عمارت کے اچانک زمین بوس ہونے سے زوردار آواز سنائی دی اور قریبی علاقوں میں موجود لوگ گھبرا کر محفوظ مقامات کی طرف چلے گئے۔
عمارت کے منہدم ہونے کی خبر سامنے آتے ہی پولیس اور امدادی عملہ موقع پر پہنچا اور صورتحال کا جائزہ لینا شروع کردیا۔ حادثے کے فوری بعد ملبے کے نیچے کسی شخص کے پھنسے ہونے یا کسی کے زخمی ہونے کے بارے میں واضح معلومات سامنے نہیں آئی تھیں۔ ٹی وی 9 تیلگو کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق حکام اس بات کی تصدیق میں مصروف تھے کہ آیا ملبے کے نیچے کوئی شخص موجود ہے یا نہیں۔
اطلاعات کے مطابق عمارت گچی باؤلی کے انجیا نگر علاقے میں واقع تھی، جو حیدرآباد کے تیزی سے ترقی کرنے والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس علاقے میں بڑی تعداد میں رہائشی اور تجارتی عمارتیں زیر تعمیر رہتی ہیں، جس کے باعث تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران حفاظتی انتظامات ایک اہم مسئلہ بن جاتے ہیں۔
کچھ میڈیا رپورٹس میں عمارت کو سات منزلہ بتایا گیا ہے، جبکہ بعض ابتدائی رپورٹس میں اسے پانچ منزلہ بھی قرار دیا گیا۔ اس لیے عمارت کی درست منزلوں کی تعداد کی حتمی تصدیق متعلقہ حکام کی جانب سے ہونا باقی ہے۔ عینی اطلاع کے مطابق عمارت کے اچانک گرنے سے زوردار آواز پیدا ہوئی۔ آس پاس موجود افراد میں کچھ دیر کے لیے شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ جائے حادثہ سے دور ہونے لگے۔
مقامی افراد نے فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دی، جس کے بعد امدادی سرگرمیاں شروع کی گئیں۔ پولیس نے علاقے کو محفوظ بنانے اور لوگوں کو ملبے کے قریب جانے سے روکنے کی کوشش کی۔ حادثے کے فوراً بعد سب سے بڑا سوال یہی تھا کہ آیا عمارت میں تعمیراتی کارکن یا کوئی دوسرا شخص موجود تھا یا نہیں۔ ابتدائی رپورٹنگ کے وقت کسی جانی نقصان کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی تھی اور امدادی کارروائی جاری تھی۔
حکام کی جانب سے ملبے کا جائزہ لے کر ممکنہ طور پر پھنسے افراد کی تلاش اور عمارت کے گرنے کی وجوہات کا تعین کیا جانا ہے۔ حیدرآباد میں زیر تعمیر عمارتوں کے حادثات ماضی میں بھی تشویش کا باعث رہے ہیں۔ ایسے واقعات کے بعد عموماً تعمیراتی اجازت ناموں، عمارت کے ڈیزائن، استعمال ہونے والے تعمیراتی سامان، ستونوں اور دیگر حفاظتی معیارات کی جانچ کا مطالبہ سامنے آتا ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق امدادی اور تفتیشی کارروائیاں جاری تھیں، جبکہ جانی نقصان اور ملبے کے نیچے افراد کی موجودگی سے متعلق حتمی تفصیلات کا انتظار تھا۔ حکام کی مکمل رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ عمارت کیوں گری، تعمیر کے لیے تمام ضروری اجازتیں حاصل تھیں یا نہیں، تعمیراتی معیار کس حد تک برقرار رکھا گیا تھا اور کسی انسانی غفلت کا اس حادثے میں کوئی کردار تھا یا نہیں۔


