ہمارے مذہبی اصول ہم طئے کریں گے! حجاب پر الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر اسدالدین اویسی کا شدید ردعمل (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے حجاب کے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام میں کیا چیز ضروری ہے اور کیا نہیں، اس کا فیصلہ عدالتوں کو نہیں بلکہ مسلمان خود اپنے مذہبی اصولوں کی بنیاد پر کریں گے۔

اویسی نے عدالت کے فیصلے کو اسلام پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا مذہب ہے اور ہم طے کریں گے کہ اس میں کیا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ججوں کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں کہ اسلام میں کون سا عمل لازمی یا غیر لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آئین کی دفعات 19 اور 25 کے بھی خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی آزادی اور اپنے مذہبی عقائد پر عمل کرنے کا حق آئینی تحفظ رکھتا ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے 21 اگست کو پریاگ راج کے ایک نجی اسکول کی کم عمر طالبہ کی درخواست مسترد کردی تھی۔ طالبہ نے مطالبہ کیا تھا کہ اسے اسکول کی مقررہ یونیفارم کے ساتھ حجاب یا سر پر اسکارف پہننے کی اجازت دی جائے۔ دو رکنی بنچ، جس میں جسٹس جے جے منیر اور جسٹس اندرجیت شکلا شامل تھے، نے قرار دیا کہ طالبہ اپنی ذاتی یا مذہبی ترجیحات کی بنیاد پر اسکول کے مقررہ ڈریس کوڈ میں تبدیلی کا مطالبہ نہیں کرسکتی۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ سر پر اسکارف پہننا اسلام کا ایسا لازمی مذہبی عمل ہے، جس کے ترک کرنے سے اس کے ایمان کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ عدالت کے مطابق اگر کسی تعلیمی ادارے کا یونیفارم ضابطہ منصفانہ، غیر امتیازی اور ادارے میں نظم و ضبط و یکسانیت برقرار رکھنے کے مقصد سے نافذ کیا گیا ہو تو ادارے کو اپنے ڈریس کوڈ پر عمل کرانے کا اختیار حاصل ہے۔

عدالت کے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ یکسانیت کو مساوات نہیں کہا جاسکتا۔ انہوں نے طالبہ کے حجاب پہننے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے سر پر حجاب پہن رہی ہے، اپنے ذہن پر نہیں۔ اویسی کے مطابق کسی طالبہ کو حجاب پہننے کی اجازت دینے سے اس کی تعلیم یا ادارے کے نظم و ضبط پر کوئی لازمی منفی اثر نہیں پڑتا۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اترپردیش میں مسلم لڑکیوں کا ثانوی تعلیم میں داخلہ پہلے ہی کم ہے اور ایسے فیصلے مسلم طالبات کی تعلیم کو متاثر کرسکتے ہیں۔ اویسی نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ مذہبی آزادی اور Essential Religious Practices سے متعلق ایک اہم معاملے کی سماعت کررہی ہے، اس لیے ان کے خیال میں الہ آباد ہائی کورٹ کو اس پہلو پر فیصلہ نہیں دینا چاہیے تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں