صحت عامہ سے کھلواڑ! چپس، میٹھے مشروبات اور پیکٹ بند غذاؤں پر ریڈ وارننگ کا منصوبہ پر حکومت بڑی فوڈ کمپنیوں کے آگے جھک گئی؟

حیدرآباد (دکن فائلز) ہندوستان میں چپس، میٹھے مشروبات اور دیگر پیکٹ بند غذاؤں میں زیادہ چینی، نمک اور چکنائی کے بارے میں صارفین کو واضح انتباہ دینے کے منصوبے پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ رائٹرز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا، ایف ایس ایس اے آئی، نے پیکٹ کے سامنے سرخ رنگ کے واضح انتباہی نشان لگانے کی تجویز پر غور کیا تھا، تاہم مارچ میں صنعت کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والی ایک اہم میٹنگ کے بعد ریگولیٹر نے اس مؤقف سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہندوستان میں موٹاپے اور غذائیت سے متعلق بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث پیکٹ بند غذاؤں میں موجود اجزا اور ان کی غذائی قدر سے متعلق صارفین کو زیادہ واضح معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ سپریم کورٹ بھی ملک میں فوڈ لیبلنگ کے نظام اور پیکٹ کے سامنے واضح وارننگ دینے کے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔

ہندوستان میں طویل عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ پیکٹ کے پچھلے حصے پر باریک تحریر میں چینی، نمک، چکنائی اور دیگر اجزا کی تفصیلات درج کرنا عام صارف کے لیے کافی نہیں۔ صحت عامہ کے ماہرین اور کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ اگر کسی غذائی مصنوعات میں چینی، نمک یا چکنائی کی مقدار زیادہ ہو تو پیکٹ کے سامنے ہی واضح اور نمایاں وارننگ درج ہونی چاہیے، تاکہ صارف خریداری سے پہلے یہ جان سکے کہ وہ جو چیز خرید رہا ہے اس میں صحت کے لیے ممکنہ طور پر نقصان دہ اجزا کتنی مقدار میں موجود ہیں۔

دنیا کے تقریباً 20 ممالک میں اس نوعیت کے فرنٹ آف پیک لیبل استعمال کیے جارہے ہیں۔ بعض ممالک میں زیادہ چینی، نمک یا چکنائی والی اشیا کے لیے سرخ رنگ استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ نسبتاً کم مقدار کے لیے سبز یا دیگر رنگوں کی علامتیں استعمال کی جاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مارچ میں صنعت کے نمائندوں اور ریگولیٹرز کے درمیان ہونے والی میٹنگ میں بڑی فوڈ کمپنیوں اور صنعت کی تنظیموں نے رنگین وارننگ لیبلنگ کی افادیت پر سوال اٹھایا۔

کوکا کولا انڈیا کی ایک سینئر عہدیدار نے مبینہ طور پر مؤقف اختیار کیا کہ صرف پیکٹ پر کوئی علامت یا وارننگ لگا دینے سے صارفین کی کھانے پینے کی عادات لازماً تبدیل نہیں ہوں گی۔ صنعت کے نمائندوں نے اس کے بجائے پورشن کنٹرول یعنی مناسب مقدار میں کھانے پینے کی عادت پر زیادہ توجہ دینے کی بات کی۔

فوڈ انڈسٹری کی جانب سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ مجوزہ نظام کے تحت ہندوستان میں فروخت ہونے والی بڑی تعداد میں مصنوعات کو ہائی شوگر، ہائی فیٹ یا ہائی سالٹ جیسے انتباہات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ انڈ فوڈ اینڈ بیوریج ایسوسی ایشن کے ایک نمائندے کے مطابق ہندوستان کی پیکٹ بند غذاؤں اور مشروبات کی تقریباً 100 ارب ڈالر سے زائد کی مارکیٹ میں تقریباً 80 فیصد مصنوعات ایسی ہوسکتی ہیں جن پر چینی، نمک یا چکنائی کی زیادہ مقدار کے باعث وارننگ لیبل لگانا پڑے۔

رپورٹ میں اس پہلو کو بھی نمایاں کیا گیا ہے کہ بعض عالمی کمپنیاں ہندوستان میں پیکٹ کے سامنے واضح وارننگ لیبل کی مخالفت کرتی ہیں، جبکہ انہی کمپنیوں کی بعض مصنوعات دیگر ممالک میں زیادہ نمایاں غذائی معلومات کے ساتھ فروخت ہوتی ہیں۔

مثلاً کوکا کولا اور اس کے بعض بوتلنگ پارٹنرز نے یورپ کی متعدد مارکیٹوں میں ٹریفک لائٹ طرز کے غذائی لیبل رضاکارانہ طور پر اختیار کیے ہیں۔ اسی طرح نیسلے برطانیہ میں 2013 سے تشریحی غذائی لیبل استعمال کررہا ہے۔ رپورٹ میں ہندوستان اور دیگر ممالک میں بعض ایک جیسی مصنوعات کے اجزا میں فرق کی مثالیں بھی پیش کی گئی ہیں۔ تاہم متعلقہ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک میں مصنوعات کی ترکیب مقامی قوانین، صارفین کے ذائقے، قیمت اور دیگر مقامی ضروریات کے مطابق تبدیل ہوسکتی ہے۔

صحت عامہ کے کارکنوں نے زیادہ شفاف اور واضح فوڈ لیبلنگ کے مطالبے کے ساتھ سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا ہے۔ عدالت نے فروری میں ریگولیٹرز کو وارننگ لیبل کے معاملے پر غور کرنے کی ہدایت دی تھی اور اسرائیل سمیت ان ممالک کے نظام کا جائزہ لینے کی طرف بھی توجہ دلائی تھی جہاں پیکٹ کے سامنے واضح غذائی وارننگ دی جاتی ہے۔

بعد ازاں اگست میں ایف ایس ایس اے آئی نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق فرنٹ آف پیک لیبلنگ اختیار کرنا مشکل ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں صحت عامہ کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ ماہرین کے مطابق پیکٹ بند غذاؤں میں زیادہ چینی، نمک اور چکنائی کا مسلسل استعمال موٹاپے اور دیگر غیر متعدی بیماریوں کے خطرے سے منسلک ہے۔

ایک حالیہ تحقیق میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ 2050 تک ہندوستان میں تقریباً 45 کروڑ افراد زیادہ وزن یا موٹاپے کا شکار ہوسکتے ہیں۔ صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صارف کو کسی غذائی چیز کے صحت پر اثرات جاننے کے لیے پیکٹ کے پچھلے حصے پر چھپی پیچیدہ غذائی تفصیلات پڑھنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اہم معلومات پیکٹ کے سامنے واضح اور آسان انداز میں فراہم کی جانی چاہیے تاکہ صارف خریداری کے وقت باخبر فیصلہ کرسکے۔

دوسری جانب فوڈ انڈسٹری کا مؤقف ہے کہ مجوزہ لیبلنگ نظام میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔ صنعت کا کہنا ہے کہ بعض مصنوعات میں قدرتی طور پر موجود شکر بھی حساب میں شامل ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں ایسی مصنوعات بھی ہائی شوگر کے زمرے میں آسکتی ہیں جنہیں صنعت اس طرح پیش نہیں کرنا چاہتی۔

اس پورے معاملے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ ہندوستان میں صارفین کو پیکٹ بند غذاؤں کے ممکنہ صحت کے اثرات کے بارے میں کتنی واضح اور نمایاں معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔ ایف ایس ایس اے آئی نے فی الحال رنگین فرنٹ وارننگ کے بجائے چینی، چکنائی اور نمک کی مقدار پر مشتمل سیاہ و سفید غذائی جدول کی تجویز پیش کی ہے۔

تاہم صحت عامہ کے ماہرین کی تشویش، صارفین کے حقوق سے متعلق مطالبات اور سپریم کورٹ میں جاری معاملے کے باعث ہندوستان میں پیکٹ بند غذاؤں کی لیبلنگ کا تنازع ابھی ختم نہیں ہوا۔ اصل سوال یہی ہے کہ صارفین کی صحت کو ترجیح دیتے ہوئے فوڈ لیبلنگ کے نظام کو کس حد تک واضح، مؤثر اور آسان بنایا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں