حیدرآباد (دکن فائلز) الہ آباد ہائی کورٹ نے ستمبر 2025 کے بریلی تشدد کے معاملے میں اتحادِ ملت کونسل کے سربراہ مولانا توقیر رضا خان کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ’سر تن سے جدا‘ نعرے کے حوالے سے سخت مشاہدات کرتے ہوئے کہا کہ اسے ’نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر، جے شری رام، ہر ہر مہادیو یا ’جو بولے سو نہال، ست سری اکال‘ جیسے مذہبی نعروں کے برابر نہیں رکھا جاسکتا۔
جسٹس آشوتوش شریواستو کی سنگل بینچ نے کہا کہ مذکورہ مذہبی نعرے اپنے متعلقہ خدا یا گرو کے احترام اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ عدالت کے مطابق ’سر تن سے جدا‘ نعرہ قانون کی بالادستی اور ہندوستان کی خودمختاری و سالمیت کے لیے چیلنج کی نوعیت رکھتا ہے۔
بریلی میں 26 ستمبر 2025 کو صورتحال اس وقت کشیدہ ہوئی جب ’آئی لو محمد‘ سے متعلق احتجاج اور اجتماع کا معاملہ سامنے آیا۔ پولیس کے مطابق مولانا توقیر رضا نے جمعہ کی نماز کے بعد اسلامیہ انٹر کالج کے میدان میں لوگوں سے جمع ہونے کی اپیل کی تھی۔ مقصد، پولیس کے مطابق، مبینہ ناانصافیوں اور جھوٹے مقدمات کے خلاف احتجاج کرنا اور ضلعی انتظامیہ کے ذریعے صدرِ جمہوریہ کو یادداشت پیش کرنا تھا۔
مقامی انتظامیہ نے اس دوران دفعہ 163 کے تحت پابندی نافذ کر رکھی تھی، جس کے تحت عوامی مقام پر پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی تھی۔ پولیس کا الزام ہے کہ اس کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ اسلامیہ میدان کی جانب بڑھے اور پولیس کی جانب سے روکنے کی کوشش کے دوران صورتحال پرتشدد ہوگئی۔
ریاستی حکومت کی جانب سے عدالت میں یہ بھی الزام پیش کیا گیا کہ ہجوم نے پولیس پر پتھراؤ کیا، پیٹرول بم پھینکے اور فائرنگ کی، جس سے پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچا۔ یہ استغاثہ کے الزامات ہیں اور مقدمے کے حتمی ٹرائل میں ان کا فیصلہ شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔
مولانا توقیر رضا کی جانب سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ تشدد میں شریک نہیں تھے اور انہیں 26 ستمبر کو صبح ہی سے نظر بند کردیا گیا تھا، اس لیے وہ جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھے۔ ان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے ایسا کوئی خطاب یا اپیل نہیں کی جسے تشدد، بدامنی یا امنِ عامہ میں خلل ڈالنے پر اکسانے والا قرار دیا جاسکے۔
ان کی جانب سے یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا کہ اجازت نہ ملنے اور دفعہ 163 نافذ ہونے کے بعد اجتماع کی اپیل واپس لے لی گئی تھی۔ تاہم عدالت نے اس امر کو بھی ملحوظ رکھا کہ اس کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ اسلامیہ انٹر کالج کی جانب روانہ ہوئے۔
استغاثہ نے ہجوم کی جانب سے ’سر تن سے جدا‘ کے نعرے لگانے کا الزام عدالت کے سامنے رکھا تھا۔ لیکن اسی مواد سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مولانا توقیر رضا نے خود یہ نعرہ لگایا تھا یا ان کی ایسی کوئی واضح ویڈیو عدالت کے سامنے موجود تھی جس میں وہ خود یہ نعرہ لگاتے دکھائی دیتے ہوں۔
واضح رہے کہ توقیر رضا کا احتجاج ’آئی لو محمد‘ کے معاملے سے متعلق تھا، بعد میں ہونے والے تشدد کے دوران ہجوم پر ’سر تن سے جدا‘ جیسے نعرے لگانے کا الزام عائد کیا گیا جبکہ اس طرح کا کوئی ویڈیو اب تک منظر عام پر نہیں آیا۔ یہی نہیں توقیر رضا کی جانب سے خود یہ نعرہ لگانے کا واضح ویڈیو ثبوت بھی دستیاب عدالتی رپورٹ میں پیش نہیں کیا گیا۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کو انتظامیہ کی اجازت کے بغیر جمع ہونے کی اپیل کی گئی تھی۔ عدالت کے مطابق اجازت نہ ملنے اور دفعہ 163 نافذ ہونے کے باوجود لوگ اسلامیہ میدان کی طرف گئے اور پولیس کی جانب سے انہیں روکنے کی کوشش کے دوران مبینہ تصادم اور تشدد کی صورتحال پیدا ہوئی۔
رپورٹس کے مطابق اس معاملے میں پولیس نے متعدد ایف آئی آر درج کی تھیں اور مقدمے میں سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مولانا توقیر رضا اور ایک دیگر ملزم ڈاکٹر نفیس کی ضمانت مسترد ہوئی، جبکہ دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر عدالت نے ریلیف دیا۔


