حیدرآباد میں بی جے پی کی ووٹ چوری بے نقاب! مسلم ووٹرز کے نام ہٹانے کی ناپاک و شرانگیز سازش، ہندوتوا غنڈوں کے خلاف مقدمہ درج: مجلس کا سخت احتجاج، کانگریس کا شدید ردعمل

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں انتخابی فہرستوں کے خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ووٹر لسٹوں سے ناموں کے مبینہ اخراج اور ‘فارم 7’ کے بڑے پیمانے پر غلط استعمال کے انکشاف نے ریاست کے سیاسی اور انتخابی حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔

حیدرآباد کے مشیر آباد، گوشہ محل، بہادر پورہ اور کاروان اسمبلی حلقوں میں پری پرنٹڈ (پہلے سے چھپے ہوئے) فارم 7 کے ذریعہ مخصوص رائے دہندگان کو نشانہ بنانے کے الزامات سامنے آنے کے بعد الیکشن کمیشن نے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے، جبکہ سیاسی جماعتوں نے آزادانہ و غیر جانبدارانہ تحقیقات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمان بیرسٹر اسد الدین اویسی کی ہدایت پر کاروان کے ایم ایل اے کوثر محی الدین اور جوائنٹ سکریٹری سید مشتاق پر مشتمل وفد نے تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) سدرشن ریڈی (IAS) سے ملاقات کی۔ وفد کے ہمراہ مشیر آباد اور گوشہ محل کے وہ متاثرہ شہری بھی موجود تھے جن کے اہل خانہ کے نام ووٹر لسٹ سے مبینہ طور پر خارج کیے جا رہے تھے۔

مجلس کے وفد نے انتخابی فہرستوں میں جعل سازی پر سخت احتجاج کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ سی ای او سدرشن ریڈی نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ معاملے کی تفصیلی جانچ کی جائے گی اور الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ERO) کو قانونی مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ بعد ازاں وفد نے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر (ڈی ای او) اور جی ایچ ایم سی کمشنر کرنن (IAS) سے بھی ملاقات کر کے ناموں کی فوری بحالی اور حقِ رائے دہی کے تحفظ پر زور دیا۔

معاملے نے اس وقت سنگین رخ اختیار کیا جب یکم اکتوبر کو مشیر آباد اسمبلی حلقے کے پولنگ اسٹیشن نمبر 210 میں بی جے پی کے بوتھ لیول ایجنٹ (BLA) ایس بالا چندر کی جانب سے 30 سے زائد پری پرنٹڈ فارم 7 جمع کرائے گئے۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ ان فارمز پر اعتراض کنندہ کا نام اور موبائل نمبر ہاتھ سے درج تھا، جبکہ جن رائے دہندگان کے نام خارج کرنے کی درخواست کی گئی تھی ان کے نام، ووٹر شناختی کارڈ (EPIC) اور پتے پہلے سے کمپیوٹرائزڈ پرنٹ شدہ تھے۔

نشانہ بنائے گئے ووٹرز میں کانگریس کے مقامی بی ایل اے شفیع الدین اور ان کے اہلِ خانہ سمیت مسلم اکثریتی آبادی شامل تھی۔ مشیر آباد کے ای آر او پروین کمار ریڈی کی شکایت پر چکڑپلی پولیس اسٹیشن میں بالا چندر کے خلاف عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 (RPA) کی دفعہ 31 کے تحت دھوکہ دہی اور گمراہ کن معلومات فراہم کرنے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ای آر او کی جانب سے کرائی گئی فیلڈ انکوائری میں تمام 30 افراد اسی پتے پر رہائش پذیر پائے گئے، جس کے بعد ان تمام فارم 7 کو مسترد کر دیا گیا۔

مشیر آباد کے بعد گوشہ محل میں بھی بی جے پی کے ایک بی ایل اے نے 15 پری پرنٹڈ فارم جمع کرانے کی کوشش کی، جن پر دستخط بھی موجود نہیں تھے، تاہم بوتھ لیول آفیسر (BLO) نے انہیں مسترد کر دیا۔ بہادر پورہ اور کاروان میں بھی اسی نوعیت کے فارمز سامنے آئے ہیں۔ بالا چندر نے میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ یہ فارم انہوں نے ڈاؤن لوڈ نہیں کیے بلکہ پارٹی کے اسمبلی انچارج کی جانب سے حلقے کے تمام بوتھس پر تقسیم کرنے کے لیے فراہم کیے گئے تھے۔

تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی (ٹی پی سی سی) کی الیکشن کمیشن کوآرڈینیشن کمیٹی کے چیئرمین پلی پاتی راجیش کمار کی قیادت میں ایک وفد نے حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی سی سجنار کو شکایت درج کروائی۔ کانگریس نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کے ریاستی دفتر سے منظم سازش کے تحت یہ پری پرنٹڈ فارمز تیار کروا کر تقسیم کیے گئے تاکہ اقلیتی رائے دہندگان کے ووٹ خارج کیے جا سکیں۔ پارٹی نے اس پورے معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دینے اور فارمز کی فارنزک جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

قواعد کے مطابق، انتخابی فہرستوں کے مسودے کی اشاعت کے بعد کوئی بھی بی ایل اے ایک دن میں 10 اور مجموعی طور پر 30 سے زیادہ فارم 7 جمع نہیں کرا سکتا، لیکن مشیر آباد میں ایک ہی دن 30 فارم دیے گئے۔ سی ای او سدرشن ریڈی نے واضح کیا کہ جھوٹے فارم جمع کرانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی جس میں ایک سال تک کی قید یا جرمانہ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب، فارم 10 کے تحت عوامی اعتراضات کی تفصیلات سی ای او کی ویب سائٹ پر باقاعدگی سے اپ لوڈ نہ کیے جانے پر سماجی کارکنان نے سوالات اٹھائے ہیں۔ ریاست بھر میں اب تک 29,000 سے زائد فارم 7 جمع ہو چکے ہیں جن میں بھوپال پلی، پٹن چیرو، گجویل، صنعت نگر اور گوشہ محل سرِفہرست ہیں، لیکن ویب سائٹ پر محض 15 فیصد سے بھی کم ڈیٹا عوام کے لیے دستیاب کیا گیا ہے، جس سے اس عمل کی شفافیت متاثر ہو رہی ہے۔

اسی دوران تلنگانہ ہائی کورٹ میں ایس کیو مسعود کی دائر کردہ ایک پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس پی سام کوشی اور جسٹس نندی کونڈہ نرسنگ راؤ پر مشتمل بنچ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کو نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے خودکار ڈیٹا میچنگ سسٹمز (ECI-Net اور ERO-Net) کے تحت شہریوں کو جاری کیے جانے والے نوٹسز اور اس کے طریقہ کار پر الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب کرتے ہوئے سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں