بڑی خبر: انڈیا اتحاد کا جنتر منتر پر اچانک احتجاج کا اعلان! الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ، مودی حکومت پر خوف سے لرزہ طاری

حیدرآباد (دکن فائلز) قومی دارالحکومت میں سیاسی کشیدگی اس وقت نئی بلندیوں پر پہنچ گئی جب اپوزیشن کے انڈیا (INDIA) اتحاد نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر اچانک احتجاجی دھرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ اہم پیش رفت کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی جانب سے جن پتھ پر واقع ’ساگر رتن‘ ریسٹورینٹ میں اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کو دیے گئے ظہرانے کے دوران سامنے آئی۔ اس ظہرانے میں موجود تمام اتحادی جماعتوں نے متفقہ طور پر الیکشن کمیشن کے مبینہ جانبدارانہ رویے کے خلاف سڑکوں پر اترنے کا فیصلہ کیا۔

ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/INCIndia/status/2107774364934676558/video/1

ظہرانے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے اعلان کیا کہ انڈیا بلاک کے تمام اراکین پارلیمنٹ گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر پرامن مظاہرہ کریں گے۔ کھڑگے نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جب تک اپوزیشن کے جائز مطالبات پورے نہیں ہوتے، یہ احتجاج کا سلسلہ رکنے والا نہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن کی تمام تر کارروائیوں کے پیچھے دراصل وزیر اعظم نریندر مودی کا ہاتھ ہے اور حکومت جمہوریت کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ کھڑگے نے واضح کیاکہ ”ہم ملک کے عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے آئینی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ عوام کے حقوق کی حفاظت کے لیے ہمارے خلاف کتنے بھی مقدمات درج کر لیے جائیں، ہم نہ ڈریں گے اور نہ ہی پیچھے ہٹیں گے۔“

ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/INCIndia/status/2107774641809072478/video/1

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پس پردہ صورتحال سے پردہ اٹھایا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ روز انڈیا اتحاد کے لگ بھگ 300 اراکین پارلیمنٹ نے الیکشن کمشنرز سے ملاقات کا وقت مانگا تھا، لیکن انہوں نے منتخب عوامی نمائندوں سے ملنے سے صاف انکار کر دیا۔ بعد ازاں دہلی پولیس نے بھی انہیں کمیشن کے قریب احتجاج کرنے سے روک دیا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ اسی ناانصافی کے خلاف اب باضابطہ احتجاجی مقام جنتر منتر پر دھرنا دیا جا رہا ہے تاکہ پورے ملک کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ گیانیش کمار ملک کے جائز الیکشن کمشنر نہیں رہے۔ انہوں نے بی جے پی قیادت اور آر ایس ایس کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کو نقصان پہنچانے والوں کا احتساب ہو کر رہے گا اور گیانیش کمار کو مستعفی ہونا پڑے گا۔

مقدمات اور ایف آئی آرز کے اندیشے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال پر راہل گاندھی نے طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہاکہ ”مجھ پر پہلے ہی 45 ایف آئی آرز درج ہیں، میرا ہدف 100 کا ہے۔ عوامی حقوق کی خاطر ملنے والی ہر ایف آئی آر میرے لیے تمغے کی مانند ہے۔“

پریس کانفرنس کے فوری بعد ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ بسوں میں سوار ہو کر جنتر منتر کی سمت روانہ ہو گئے۔ نئی دہلی میں سیکیورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور جن پتھ و جنتر منتر کے ارد گرد پولیس کی بھاری نفری تعینات کر کے بیریکیڈنگ کی گئی ہے، جس کے باعث اراکین پارلیمنٹ کو راستے میں ہی حراست میں لیے جانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب، کانگریس نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈلز پر راہل گاندھی کی تصویر کے ساتھ ایک خصوصی پوسٹر جاری کیا ہے جس پر ”مظاہرہ جاری ہے“ درج ہے اور عوام و کارکنان کو ”آ جاؤ سارے“ کا نعرہ دیتے ہوئے جنتر منتر پہنچنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ سامنے آنے والی ویڈیوز میں اپوزیشن قیادت اور اراکین پارلیمنٹ کو بس میں مکمل عزم کے ساتھ احتجاج کی جانب بڑھتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں