حیدرآباد (دکن فائلز) ایک چودہ سالہ لڑکی نے وزیر اعلیٰ کے دفتر کو بذریعہ ڈاک اطلاع دی کہ اس کی کم عمری میں شادی کی جارہی ہے۔ نابالغ لڑکی نے سی ایم او سے شکایت کی کہ اس کی مرضی کے بغیر آدھار کارڈ میں اس کی عمر کو تبدیل کرتے ہوئے کمسنی میں شادی کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔
سی ایم او کے حکم پر پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور شادی کو رکوا دیا۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق آندھراپردیش میں ضلع سری ستیہ سائی کے سائی کے ایس پی مادھوریڈی کے حکم پر ایم پی ڈی او ادنیارائنا، ایس آئی ملیکارجن ریڈی اور آئی سی ڈی ایس کے اہلکار لڑکی کے آبائی گاؤں پہنچے اور بچپن کی شادی کو رکوادیا۔ گاؤں کے لوگوں کی موجودگی میں لڑکی کے والدین اور دولہے کے گھر والوں کی کونسلنگ کی گئی۔ والدین پر زور دیا گیا کہ لڑکی کو اپنی خواہش کے مطابق تعلیم جاری رکھنے دیا جائے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ کم عمری کی شادیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
مقامی لوگوں نے لڑکی کی ستائش کی جبکہ لڑکی نے اپنے والدین کو اس بات پر راضی کرلیا کہ وہ قانونی طور پر بالغ ہونے کے بعد ہی شادی کرے گی۔ لڑکی نویں جماعت کی طالبہ ہے۔


