ون نیشن ون الیکشن کے تلنگانہ انتخابات پر اثرات

حیدرآباد (دکن فائلز) جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں انتخاباتی سرگرمیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ اسی دوران مرکزی حکومت کی جانب سے خصوصی پارلیمانی اجلاس بلانے کے فیصلے نے سیاسی تجزیہ کاروں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ایسا سمجھا جارہا ہے کہ مرکزی حکومت خصوصی اجلاس کے دوران ‘ون نیشن، ون الیکشن بل پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو اس مہینے کی 18 سے 22 تاریخ تک منعقد ہو گا۔

اب یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا اس بل کا تلنگانہ اسمبلی انتخابات پر کیا اثر پڑے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ون نیشن ون الیکشن بل پاس ہوجاتا ہے تو اس سے تلنگانہ سیت پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس بل کے بارے میں ابھی کوئی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔ بل کو حتمی شکل دینے کے اس تناظر میں ریاستی اسمبلی انتخابات پر اس کے اثرات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال ہے۔

تلنگانہ میں انتخابی سرگرمیاں شدت سے جاری ہیں۔ بی آر ایس کی طرف سے تقریباً تمام سیٹوں کے لیے امیدواروں کا اعلان کرردیا گیا ہے۔ اس طرح کی قیاس آرائی بھی کی جارہی تھی کہ تلنگانہ میں انتخابات دسمبر میں منعقد کئے جائیں گے۔ وہیں اس بات پر بھی تجسس ہے کہ اگر ملک میں ون نیشن ون الیکشن نافذ ہوجاتا ہے تو کرناٹک میں کس طرح کی صورتحال ہوگی۔ کرناٹک میں اسمبلی انتخابات ہوئے صرف تین کا عرصہ ہی ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق خصوصی اجلاس کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے ون نیشن ون الیکشن، یو سی سی، خواتین ریزرویشن کے علاوہ دیگر متعدد متنازعہ بل لائے جاسکتے ہیں۔ وہیں مودی حکومت ان بلوں کو لوک سبھا میں آسانی سے پاس کروا سکتی ہے لیکن راجیہ سبھا میں کچھ مشکل ہوسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں