تلنگانہ اسمبلی انتخابات: بی آر کا انتخابی منشور جاری، مسلمان یکسر نظرانداز

حیدرآباد (دکن فائلز) بی آر ایس کے سربراہ و تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ نے آج بی آر کا انتخابی منشور جاری کردیا۔ بی آر ایس کے انتخابی منشور میں مسلمانوں کو یکسر نظرانداز کیا گا۔ وقف املاک کے تحفظ، وقف بورڈ کو جوڈیشنل پاور، مسلم ریزرویشن، اسکالرشپ و دیگر اہم مسلم مسائل پر خاموشی اختیار کی گئی۔

ایسا لگتا ہے کہ بی آر کے انتخابی منشور کو کانگریس کی گارنٹی اسکیموں کے توڑ پر بنایا گیا ہے۔ بی آر ایس کے انتخابی منشور کے مطابق ریاست کے ہر اہل شخص کو 5 لاکھ روپے کا بیمہ فراہم کیاجائے گا اور آسرا پنشن کو بڑھاکر پانچ ہزار روپئے کردیا جائے گا۔

بی آر ایس کے انتخابی منشور میں مسلمانوں کےلئے کچھ خاص اعلانات نہیں کئے گئے وہیں کے سی آر نے انتخابی منشور کے ذریعہ تمام برادریوں کو راغب کرنے کی کوشش کی۔ ریاست کے تقریباً 93 لاکھ اہل خاندانوں کا بیمہ کرایا جائے گا۔ اس کے علاوہ کے سی آر نے آسرا پنشن کو 2,116 روپے سے بڑھاکر 5,000 روپے کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ معذورین کے پنشن کو بھی 6 ہزار روپئے کرنے کا وعدہ کیا گیا۔

کے سی آر نے اعلان کیا کہ رعیتو بندھو اسکیم کے تحت موجودہ 10,000 روپئے کو مرحلہ وار انداز میں بڑھا کر 16,000 روپئے کردیا جائے گا۔ ریاست میں آروگیہ شری کے تحت 15 لاکھ روپے تک کا علاج فراہم کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ سوبھاگیہ لکشمی اسکیم کے ذریعے مستحق خواتین کو ماہانہ 3000 روپے فراہم کیے جائیں گے۔

کے سی آر نے کہا کہ حیدرآباد میں مزید ایک لاکھ ڈبل بیڈروم روم تعمیر کیے جائیں گے۔ انہوں نے تلنگانہ اناپورنا کے تحت باریک چاول فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا اور کہا کہ اقلیتی جونیئر کالجس کو ریزیڈنشیل کالجس میں تبدیل کیا جائے گا۔ انہوں نے صحافیوں اور اہل خاندانوں کےلئے 400 روپے میں گیس سلنڈر فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور بی جے پی سے مقابلے کےلئے بی آر ایس کی جانب سے عوام کو زیادہ سے زیادہ راغب کرنے کی کوشش کی گئی اور بی آر ایس نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ انتخابی مہم کا آغاز کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں