کانگریس کا ’مائناریٹیز ڈیکلریشن‘ جاری: اقلیتی بجٹ 4 ہزار کروڑ، وقف ریکارڈ کا ڈیجیٹلائزیشن، اماموں کا اعزازیہ 12 ہزار، نئے شادی شدہ جوڑے کو ایک لاکھ 60 ہزار کی امداد، ریزرویشن کو یقینی بنانے کا وعدہ

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے کےلئے کانگریس پارٹی کی جانب سے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ انتخابی موسم میں آج کانگریس پارٹی کی جانب سے تلنگانہ کے مسلمانوں کےلئے بڑے اعلانات کئے گئے۔ کانگریس پارٹی نے آج ’مائناریٹیز ڈیکلریشن‘ (اقلیتی اعلامیہ) جاری کردیا۔

کانگریس کے مائناریٹیز ڈیکلریشن میں وعدہ کیا گیا کہ ’اقتدار میں آنے کے 6 ماہ کے اندر اندر ذات پات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے اور تمام پسماندہ طبقات بشمول اقلیتوں کے لیے ملازمتوں، تعلیم اور سرکاری فلاحی اسکیموں میں ‘منصفانہ ریزرویشن’ کو یقینی بنایا جائے گا۔

مائناریٹیز ڈیکلریشن میں اقلیتی بہبود کے بجٹ میں 2000 روپے تک کا اضافہ کرنے کا بھی وعدہ کیا۔ کانگریس نے بے روزگار اقلیتی نوجوانوں اور خواتین کے لیے رعایتی قرضوں کی سہولت کے لیے سالانہ ایک ہزار کروڑ روپئے فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔

تمام مذاہب کے اماموں، مؤذن، خادموں، پادریوں اور گرانتھیوں کے لیے 10,000-12,000 روپے ماہانہ اعزازیہ دینے کا وعدہ کیا جا رہا ہے۔ پارٹی نے ’تلنگانہ اسٹیٹ اقلیتی کمیشن ایکٹ، 1998‘ میں ترمیم کرنے کا بھی وعدہ کیا تاکہ اسے ایک مستقل ادارہ بنایا جا سکے اور اقلیتوں کی بہبود کے لیے پالیسیوں میں ’مناسب تبدیلیاں‘ کرنے کے لیے اس کی سالانہ رپورٹ ریاستی قانون سازی میں پیش کی جائے۔

کانگریس نے وقف بورڈ کی اراضی اور جائیداد کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے تاکہ “وقف بورڈ کی تجاوز شدہ جائیدادوں کا دوبارہ دعویٰ اور دوبارہ اندراج کیا جا سکے۔” اس کے علاوہ کانگریس پارٹی نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کےلئے کام کرنے کا عہد کیا۔

اقلیتی اعلامیہ میں SETWIN کے ذریعہ بیروزگار نوجوانوں کو ہنرمند بنایا جائے گا۔ پرانے شہر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو اختیار دینے کا وعدہ۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اقلیتوں کے نئے شادی شدہ جوڑوں کو 1,60,000 روپے کی امداد دی جائے گی۔

کانگریس نے اندرراما اللو اسکیم کے تحت تمام بے گھر اقلیتی خاندانوں کے لیے مکانات کی تعمیر کے لیے ایک مکان کی جگہ اور 5 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا۔ عبدالکلام تعلیم اسکیم کے تحت کانگریس نے مسلم، عیسائی، سکھ اور دیگر اقلیتی نوجوانوں کو ایم فل اور پی ایچ ڈی مکمل کرنے پر 5 لاکھ روپے کی مالی امداد دینے کا وعدہ کیا۔

اعلامیہ میں پوسٹ گریجویشن، گریجویشن، انٹرمیڈیٹ اور دسویں جماعت سمیت تعلیمی کامیابیوں سے متعلق مختلف مراعات کا بھی اعلان کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں