حیدرآباد (دکن فائلز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے آج کانگریس کے مائناریٹیز ڈیکلریشن پر تنقید کی اور سوال اٹھائے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیکلریشن میں کہا گیا ہے کہ اقلیتوں کو بی سی میں شامل کیا جائے گا، اس طرح بی سی اور اقلیتوں دونوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
آج تلنگانہ بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کانگریس کے مائناریٹیز ڈیکلریشن کو دھوکہ قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس نے بی جے پی نظریہ کے مطابق اعلامیہ جاری کیا۔ انہوں نے کانگریس کے وعدوں کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے جھوٹے وعدے کانگریس نے ماضی میں بھی کئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس کہہ رہی ہے کہ مسلم اقلیتوں کو بی سی تسلیم کیا جائے گا، اور اگر ایسا کیا گیا تو اقلیتوں کی خصوصی حیثیت ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اقلیتی اعلامیہ کے نام پر بی سی اور مسلمانوں کو لڑانے کی کوششش کررہی ہے۔ انہوں نے اسے تلنگانہ کی پرامن ریاست میں نفرت پھیلانے کی کوشش قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان، عیسائی اور سکھ کو آئینی طور پر اقلیتوں کا موقف حاصل ہے جسے چھیننے کےلئے کانگریس اور بی جے پی کی ملی بھگت سے کھیل کھیلا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے بی جے پی کے اہم لیڈروں کی حلقوں سے کمزور امیدوار کو میدان میں اتارا ہے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ 2004 سے 2014 تک دس سال اقتدار میں رہنے والی کانگریس نے اقلیتوں کے لیے کیا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دس سالوں میں کانگریس نے اقلیتوں کے لیے صرف 930 کروڑ روپے دیے ہیں جبکہ بی آر ایس پارٹی نے پچھلے دس سالوں میں 10 ہزار کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔


