حیدرآباد (دکن فائلز) کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے جمعرات کو تلنگانہ ریاستی ایجی ٹیشن کے دوران جانی نقصان پر معافی مانگی۔ آج حیدرآباد کے گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ ریاست بنانا یا ریاست کو تقسیم کرنا بچوں کا کھیل نہیں ہے اور یہ عمل “ایسے ہی” نہیں کیا جا سکتا۔
Telangana has among the highest rate of unemployment and highest inflation in India.@PChidambaram_IN exposing the BRS government's economic failure. pic.twitter.com/RJgLFnj9Gh
— Telangana Congress (@INCTelangana) November 16, 2023
انہوں نے کہا کہ تلنگان ایجی ٹیشن کے دوران خودکشی کے واقعات بدقسمتی تھے۔ انہوں نے اس طرح کی اموات پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس کےلئے اس وقت کی مرکزی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا نہیں جاسکتا۔ چدمبرم آج تلنگانہ کے وزیر اعلی کے چندر شیکھر راؤ کے ان الزام کا جواب دے رہے تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سابقہ یو پی اے حکومت نے تلنگانہ کی تشکیل میں تاخیر کی تھی جس کے نتیجے میں جانوں کا نقصان ہوا۔
چدمبرم نے مزید کہا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل عوامی تحریک کی گئی۔ چدمبرم نے الزام لگایا کہ کے چندر شیکھر راؤ کی زیرقیادت بی آر ایس حکومت میں تلنگانہ میں 4000 سے زیادہ خودکشی کے واقعات پیش آئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ریاستی حکومت نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان خودکشیوں کا ذمہ دار کون ہے۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران اگر کچھ جانیں ضائع ہوئی ہیں تو ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں، لیکن کے سی آر کی حکومت میں تلنگانہ میں 4000 خودکشیوں کا کیا ہوگا؟ ان خودکشیوں کا ذمہ دار کون ہے؟


