حیدرآباد(دکن فائلز) مرکزی الیکشن کمیشن نے رعیتو بندھو اسکیم کے ذریعہ کسانوں کو رقم کی اجرائی کی اجازت دینے کے بعد اسے واپس لے لیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ہفتہ کو مختلف شرائط کے ساتھ کسانوں کو رقم جاری کرنے کی اجازت دی تھی۔ الیکشن کمیشن نے مشورہ دیا تھا کہ انتخابی مہم میں اس کا کوئی تذکرہ کئے بغیر رقم 28 تاریخ تک جمع کرائی جائے۔ تاہم ہفتہ اور اتوار کو تعطیل ہونے کی وجہ سے رقم جمع نہیں ہوسکی۔
اسی دوران رعیتو بندھو کے تعلق سے بی آر ایس قائدین کے تبصروں پر الیکشن کمیشن کو مختلف شکایتیں موصول ہوئیں جس پر تحقیقات کے بعد الیکشن کمیشن نے رعیتو بندھو کے تحت رقم کی تقسیم پر پھر سے روک لگادی ہے۔ ایک بیان میں الیکشن کمیشن نے کہاکہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے یہ ہدایت جاری کی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر وکاس راج کو دوصفحات پر مشتمل ایک مکتوب بھیجا گیا ہے۔
چناؤ کمیشن نے رعیتو بندھو اسکیم کے تحت مالی امداد تقسیم کرنے کی غرض سے تلنگانہ سرکار کو دی گئی اجازت واپس لے لی ہے۔ یہ قدم ایک وزیر کی جانب سے اس بارے میں عوام کے سامنے اعلان کرکے انتخابی ضابطہ عمل کی خلاف ورزی کئے جانے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ تلنگانہ میں جب تک مثالی ضابطہ اخلاق نافذ ہے، تب تک مذکورہ اسکیم کے تحت کوئی مالی امداد تقسیم نہیں کی جائے گی۔
کمیشن نے کہا کہ تلنگانہ کے وزیرخزانہ ہریش راؤ نے جو بھارت راشٹر سمیتی کے امیدوار کے طور پر چناؤ بھی لڑ رہے ہیں، رعیتو بندھو اسکیم کی تقسیم سے متعلق بیان دے کر مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔ انتخابی کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ وزیر موصوف نے اسکیم کے تحت مالی امداد جاری کئے جانے کی تشہیر کرکے شرائط کی خلاف ورزی بھی کی ہے اور موجودہ انتخابی عمل میں یکساں مواقع فراہم کئے جانے کے عمل میں رخنہ ڈالا ہے۔


