مسلم ووٹرز کی دانشمندی کو سلام! تلنگانہ میں کانگریس کی سونامی، بی آر ایس کی کشتی ڈوب گئی، ریونت ریڈی کل لیں گے وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات کے نتائج توقع کے مطابق آئے۔ قبل ازیں ظاہر کئے جارہے امکانات کے مطابق ہی کانگریس کو برتری حاصل ہوئی اور بی آر کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق کانگریس کو 64 سیٹیں ملی جبکہ بی آر صرف 39 حلقوں تک سکڑگئی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے مجلس نے اپنے 7 حلقوں پر قبضہ کو برقرار رکھا ہے۔ مجلسی امیدواروں نے حلقہ چندرائن گٹہ، نامپلی، یاقوت پورہ، ملک پیٹ، چارمینار، بہادر پورہ اور کاروان سے کامیاب ہوئے۔

کانگریس کے قدآور رہنما اور سب سے بڑا مسلم چہرہ محمد علی شبیر نطام آباد حلقہ سے ہار گئے۔ اسی طرح بی آر ایس کے مسلم چہرہ رکن اسمبلی کو بودھن میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ریاست میں کانگریس کی جیت کا سہرہ عام مسلمانوں کی سمجھداری کو قرار دیا جارہا ہے۔ اکثر حلقوں میں مسلم ووٹرز نے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے کانگریس کو ووٹ دیئے جس کی وجہ سے کانگریس کی جیت آسان ہوئی۔

ذرائع کے مطابق بی آر ایس کو بہت کم مسلم ووٹرز نے ووٹ دیا۔ بی آر ایس سی مسلمانوں کی ناراضگی کی اصل وجہ متعدد مساجد کی شہادت، آلیر انکاونٹر میں چھ مسلم نوجوانوں کا انکاونٹر، وقف املاک کی تباہی ہے۔ انتخابات میں جیت کے بعد متعدد کانگریس رہنماؤں نے مسلم ووٹرز کا شکریہ ادا کیا اور اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ مسلم ووٹرز کی دانشمندی کے سبب وہ کامیاب ہوسکے۔ انتخابی نتائج کے بعد سی ایم کے سی آر نے گونر کو اپنا استعفیٰ روانہ کردیا جس کے بعد گورنر نے ان کے استعفیٰ کو قبول کرلیا۔

تلنگانہ کانگریس صدر ریونت ریڈی نے آج رات گورنر تمیلی ثائی سوندرا راجن سے ملاقات کرکے حکومت تشکیل دینے سے متعلق بات چیت کی۔ کل صبح میں سی ایل پی اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں وزیراعلیٰ کا انتخاب ہوگا۔ اس بات کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ریونت ریڈی کل دوپہر یا شام میں وزیراعلیٰ تلنگانہ کے طور پر حیدرآباد کے ایل بی اسٹیڈیم میں حلف لیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں