حیدرآباد (دکن فائلز)تلنگانہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کا 3 دسمبر کو اعلان ہوگیا، کانگریس کو سب سے زیادہ 64 نشستیں حاصل ہوئیں، جس کے بعد یہ تو طئے ہوگیا کہ تلنگانہ میں آئندہ حکومت کانگریس کی بنے گی لیکن گذشتہ دو دنوں سے وزیراعلیٰ کے عہدہ کو لیکر تجسس برقرار تھا۔
بالآخر کانگریس ہائی کمان نے پی سی سی صدر ریونت ریڈی پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا اور تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے طور پر ان کے نام کا اعلان کیا گیا۔ ریونت ریڈی کو انتخابات کے دوران سے ہی سی ایم عہدہ کا دعویدار مانا جارہا تھا تاہم پارٹی کے کچھ سینئر رہنماؤں کے اعتراض کے بعد پارٹی قیادت نے وزیراعلیٰ کے امیدوار کو لیکر کافی غور و خوص کیا تاکہ مستقبل کے امکانی مسائل کو پہلے ہی حل کرلیا جائے۔
ریونت ریڈی اب 7 دسمبر کو بڑے پیمانہ پر منعقدہ ایک حلف برداری تقریب میں حلف لیں گے۔
اب ڈپٹی سی ایم اور وزارتوں کو لیکر ابھی بھی تجسس برقرار ہے۔ قبل ازیں پارٹی کے سرکردہ قائدین نے اے آئی سی سی صدر ملکارجن کھرگے کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور تلنگانہ کے چیف منسٹر کے امیدوار کے انتخاب و دیگر مسائل پر تبادلہ خیال گیا۔ اس موقع پر کھرگے کے علاوہ راہل گاندھی، کے سی وینوگوپال، ڈی کے شیوکمار، مانک راؤ ٹھاکرے اور دیگر موجود تھے۔
تلنگانہ انتخابی نتائج جاری ہونے کے بعد وزیراعلیٰ کے عہدہ پر تجسس ختم ہوگیا ہے۔ کانگریس ہائی کمان نے تلنگانہ پردیش کانگریس کے صدر ریونت ریڈی پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔ہائی کمان نے ریونت ریڈی کو تلنگانہ میں کانگریس حکومت کا سربراہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہائی کمان کے فیصلہ کے بعد ریونت ریڈی نے پارٹی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور عوام کی فلاح و بہبود کےلئے کام کرنے کا عہد کیا۔ اب بہت جلد ریونت ریڈی تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیں گے اور عہدہ کا جائزہ حاصل کرلیں گے۔
قبل ازیں چیف منسٹر کے عہدہ کیلئے امیدوار کا انتخاب کرنے کانگریس مقننہ پارٹی کا ایک اجلاس 4 دسمبر کو حیدرآباد میں منعقد ہوا تھا۔ کانگریس کے ارکان اسمبلی نے چیف منسٹر کے انتخاب کی ذمہ داری ہائی کمان پر ڈال دی تھی۔ اجلاس میں اس سلسلہ میں قرارداد منظور کی گئی تھی۔


