حیدرآباد (دکن فائلز) اسمبلی اجلاس کے تیسرے دن کا آغاز گورنر تملی ثائی سوندرا راجن کی تقریر سے ہوا۔ انہوں نے اسمبلی و کونسل دونوں ایوانوں سے خطاب کیا۔ گورنر نے اپنی تقریر کا آغاز تلگو میں کیا۔ قبل ازیں گورنر کا وزیراعلیٰ ریونت ریڈی اور وزراء نے اسمبلی میں پرتپاک استقبال کیا۔ گورنر نے نئی حکومت کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کو بادشاہت سے آزاد کیا گیا ہے جبکہ نئے سی ایم ریونت ریڈی نے کہا ہے کہ وہ نوکر ہیں حکمران نہیں۔ عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنا چاہتے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نئی حکومت عوامی خدمت میں کامیاب ہو۔
گورنر نے اپنے خطاب میں کہا کہ تلنگانہ کو آمرانہ حکمرانی کے رجحانات سے نجات ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ کہتے ہوئے فخر ہے کہ عوامی حکومت کا دور شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی زندگیوں میں تبدیلی چاہتے ہیں اور یہ کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں کہ یہ عام آدمی کی حکومت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرجاوانی پروگرام لوگوں کی شکایات کو حاصل کرنے کے لیے اٹھایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چار کروڑ عوام کی امنگوں سے بننے والی ریاست میں ان کی حکمرانی ملک کے لیے ایک مثال بننے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ شہداء کی خواہشات کے مطابق چلائی جائے گی۔ ریاست کے لیے جانیں قربان کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ گورنر نے وضاحت کی کہ وزیراعلیٰ نے عوامی بہبود کے لیے اعلان کردہ چھ ضمانتوں کو قانونی حیثیت دینے کے لیے پہلی فائل پر دستخط کیے۔


