حیدرآباد (دکن فائلز) بی جے پی کے رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے تلنگانہ حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ملعون سنگھ نے تبلیغی جماعت کے اجتماع کے لیے حکومت کی جانب سے فنڈز کی منظوری پر غصہ کا اظہار کیا۔ گوشہ محل کے رکن اسمبلی نے کانگریس حکومت سے دریافت کیا کہ ایران، ازبکستان، تاجکستان، قازقستان، روس اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک میں پابندی عائد کی گئی جماعت کی مدد کیوں کی جارہی ہے؟۔
ملعون سنگھ نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی تبلیغی جماعت پر بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ تبلیغی جماعت کی تعلیمات متنازعہ ہے اور شدت پسندی پر مبنی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک روز قبل بی جے پی کی خاتون لیڈر نے بھی اسی طرح کے الزامات عائد کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کی تھی اور ایک روز بعد راجہ سنگھ نے بھی اسی الزامات کو دہرایا۔ ہمیشہ کی طرح انہوں نے تبلیغی جماعت پر بے بنیاد الزامات عائد کئے۔ ان کے بیان سے ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اس معاملہ سے ہندوؤں اور مسلمانوں میں منافرت پھیلانے کی کوشش کی تاکہ کانگریس حکومت کے خلاف ہندوؤں کو بھڑکایا جاسکے۔
واضح رہے کہ حیدرآباد کے قریبی علاقہ وقارآباد پرگی میں 6 جنوری سے تبلیغی جماعت کے اجتماع کا آغاز ہوگا۔ اس اجتماع میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد شریک ہوں گےجس کےلئے 300 ایکڑ سے زیادہ زمین پر بڑے پیمانہ پر انتظامات کئے جارہے ہیں۔ تلنگانہ حکومت نے تبلیغی جماعت کے تین روزہ اجتماع کے لیے تقربیاً ڈھائی کروڑ روپئے کا بجٹ منظور کیا ہے۔ کانگریس کی سیکولر حکومت کی جانب سے فنڈز جاری کئے جانے کے بعد کچھ فرقہ پرست ناراض ہیں۔


