حیدرآباد (دکن فائلز) پرانے شہرمیں میٹروریل کے کاموں کا آغاز عنقریب ہونے جارہا ہے۔ 7 مارچ کو چیف منسٹر ریونت ریڈی فلک نما پر ان کاموں کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پانچ اعشاریہ پانچ کیلو میٹر طویل اس روٹ کی تعمیر پر تقریباً دو ہزار کروڑ روپئے خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔ جوبلی بس اسٹیشن سے فلک نما تک براہ پرانا شہر میٹروٹرین چلائی جائے گی۔ اگرچہ 2012 میں ہی اس روٹ کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر جوبلی ہلز سے ایم جی بی ایس تک کا ہی کام مکمل کیا گیا۔ پرانے شہر میں سڑکوں کی توسیع اور مذہبی عمارتوں کی وجہ سے کام میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ حال ہی میں میٹرو کے راستہ میں رکاوٹوں کو دور کئے جانے کے بعد کانگریس حکومت نے ان کاموں کیلئے بجٹ مختص کردیا ہے۔
ایم جی بی ایس سے فلک نما تک پانچ اعشاریہ پانچ کیلو میٹر طویل راستہ میں میٹروٹرین کی تعمیر کیلئے گزشتہ اگست میں ڈرون سروے کیا گیا تھا۔ درالشفا جنکشن سے شاہ علی بنڈہ جنکشن تک 103 مذہبی اور دیگر حساس عمارتوں کی نشاندہی کی گئی۔ جوبلی ہلز سے ایم جی بی ایس تک میٹروٹرین کو فلک نما تک توسیع دی جائے گی۔ ایم جی بی ایس سے دارالشفا جنکشن، پرانی حویلی، اعتبار چوک، عالی جاہ کوٹلہ ، درگاہ میر مومن، ہری باؤلی، شاہ علی بنڈہ، شمشیر گنج، علی آباد سے فلک نما تک یہ روٹ تعمیر کی جارہی ہے۔ اِس کے راستے میں 5 میٹرو اسٹیشن تعمیر کئے جائیں گے۔ میٹرو ٹرین کی آمد سے پرانے شہر کے لوگوں کو حمل ونقل کی سہولت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ ٹریفک کا مسئلہ بھی دور ہوجائے گی۔


