(ایجنسیز) امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کانگریس کی عمارت میں آج ریپبلکن کی زیر قیادت ہاؤس کی خارجہ امور کی کمیٹی اور اسی ایوان میں ایک مختص ذیلی کمیٹی کی اپنے حالیہ دو دوروں کے بارے میں بریفنگ دینے آئے تو انہیں سخت احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سامنے اپنی گواہی کے دوران سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن کو منگل کی شام کو غزہ میں جنگ کے حوالے سے امریکی پالیسی کی مذمت کرنے والے کارکنوں کے بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ ناراض مظاہرین نے بلینکن کو اس وقت روک دیا جب انہوں نے ڈیموکریٹک کنٹرول والی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنی بریفنگ دینا شروع کی۔ اس موقع پر مظاہرین نے بلنکن کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور نعرے لگائے کہ “امریکی حکومت کے ہاتھ فلسطینیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں”، “جنگی مجرم،” “غزہ کا قصاب” ۔
ایک خاتون بینر لہراتے ہوئے کانگریس کی عمارت کے اندر داخل ہوگئی جس پر بلنکن کی تصویر کے ساتھ ’مجرم‘ کا لفظ لکھا گیا تھا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے خاتون کو وہاں سے باہر نکال دیا۔ بلنکن نے اسرائیل کے لیے بائیڈن انتظامیہ کی حمایت کا اعادہ کیا اور ساتھ ہی غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے پر اپنی توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا۔


