حیدرآباد (دکن فائلز) حیرت انگیز طور پر ایک مسلم اکثریتی ملک میں حجاب اور برقعہ پر پابندی عائد کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق تاجیکستان نے خواتین کے حجاب استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے اور اسے “اجنبی لباس” قرار دے دیا۔ تاجکستان نے عید کے موقع پر بچوں کی جانب سے بڑوں سے عیدی مانگنے پر بھی پابندی عائد کردی۔ وسطی ایشیائی ملک میں حکومت نے حجاب پر پابندی کا فیصلہ خود کو سیکولر ظاہر کرنے کےلئے کیا گیا۔
تاجیکستان کی کل آبادی میں 96 فیصد مسلم شہری ہیں۔ یہاں تقریباً 10 ملین مسلم آبادی مختلف مسلکوں میں بٹی ہوئی ہے۔
تاجیکستان کے صدر امام علی رحمان نے حجاب پر پابندی کے بل کو اپنی منظوری دے دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تاجکستانی پارلیمنٹ کے ایوان بالا ’مجلس ملی‘ نے 19 جون کو یہ بل پاس کیا ہے۔ اس بل میں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دوران بچوں کے بیرون ملکی لباس پہننے پر بھی پابندی کا التزام ہے۔ پارلیمنٹ کے ایوان زیریں ’مجلس نمائندگان‘ نے 8 مئی کو ہی اس بل کو پاس کر دیا تھا جس کے بعد یہ ایوان بالا میں گزشتہ دنوں پیش ہوا۔ اس بل میں برقع اور حجاب جیسے غیر ملکی لباس کو پہننے پر روک لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔


