حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ سکریٹریٹ بی آر امبیڈکر میں 19 اگست کو 50 سے زیادہ سرکردہ مسلم رہنماؤں کا اجلاس منعقد کیا گیا جس کی صدارت حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے کی۔ اس اجلاس میں وقف ترمیمی بل پر غور و خوص کیا گیا اور متفقہ طور پر اس کی شدید مخالفت کرنے کا اعلان کیا گیا۔ تمام سیاسی، مذہبی و سماجی رہنماؤں نے متفقہ طور پر مجوزہ وقف ترمیمی بل کی نہ صرف مخالفت بلکہ اسے مسترد کرنے کا فیصلہ کیا جو اس وقت مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں زیر بحث ہے۔
تلنگانہ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے ممتاز مذہبی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں، قانونی ماہرین، سرکردہ علماء، صحافیوں اور دیگر معزز افراد کا ایک اجلاس طلب کرکے مجوزہ وقف ترمیمی بل پر تبادلہ خیال کیا جبکہ تمام مسلم رہنماؤں نے متحدہ طور پر اس کی شدید مخالفت کی۔ دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے اجلاس میں وقف بل کی مختلف متنازع شقوں اور وقف کے ادارے پر ان کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے رائے ظاہر کی کہ یہ تجویز صرف ایک ترمیم نہیں بلکہ موجودہ قانون کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے اسے وقف املاک کے کنٹرول، اور انتظام میں کھلی مداخلت کے ذریعہ ملک کے تمام وقف املاک کو تباہ و برباد کرنے کی سازش قرار دیا۔
اجلاس میں محمد علی شبیر نے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بی جے پی کی قیادت والی حکومت کو بل کو جے پی سی کو بھیجنے پر مجبور کرنے میں مؤثر طریقے سے اپوزیشن کی قیادت کی۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی نے 8 اگست کو لوک سبھا میں بل پیش کرنے سے پہلے انڈیا بلاک سے تعلق رکھنے والے تمام اراکین پارلیمنٹ کی میٹنگ بلاکر اس سلسلہ میں اقدام کیا۔
اجلاس میں امیر جامعہ نظامیہ مفتی خلیل احمد، امیر امارات ملت اسلامیہ مولانا حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ، صدر جمیعۃ العلمائ مولانا مفتی غیاث رحمان،ی مولانا مفتی صادق محی الدین فہیم، مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری، صدر تحریک مسلم شبان مشتاق ملک، مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان امجد اللہ خان خالد، مولانا عمرعابدین، مولانا احسن الحمودی، مفتی محمود زبیر قاسمی، رکن قانون ساز کونسل عامر علی خان، کانگریس لیڈر و معروف صحافی شجاعت علی صوفی، محمد اظہر الدین کے علاوہ وقف دیگر مسلم رہنماؤں اور دانشوروں نے شرکت کی۔
آخر میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کو مسلم رہنماؤں کے جذبات و احساسات سے واقف کروایا جائے گا تاکہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے وقف ترمیمی بل کی مخالفت سے متعلق نمائندگی کی جائے۔


