تلنگانہ کے ونپرتی میں بجرنگ دل کارکنوں کی شرانگیزی، اسکول میں نماز پڑھ رہیں مسلم طالبات کو دھمکی و ہنگامہ، امجد اللہ خان نے وزیراعلیٰ کو خط لکھ کر پولیس کے رویہ پر شدید تنقید کی

حیدرآباد (دکن فائلز) ملک کے دیگر علاقوں کی طرح تلنگانہ میں بھی فرقہ پرست عناصر کے حوصلہ بلند ہیں اور ان کی جانب سے شرانگیزی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ پولیس کی جانب سے انہیں دی جانے والی ڈھیل کو سمجھا جاتا ہے۔ ہندوتوا تنظیموں کے خلاف پولیس کی جانب سے نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے، اس کی تازہ مثال تلنگانہ کے ونپرتی میں دیکھنے کو ملی جہاں بجرنگ دل سے تعلق رکھنے والے کچھ سماج دشمن عناصر نے چانکیہ ہائی اسکول میں زبردستی داخل ہوئے اور وہاں نماز پڑھ رہی مسلم طالبات کو دھمکیاں دی اور انہیں برا بھلا کہا۔

مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان امجد اللہ خان نے الزام لگایا ہے کہ بجرنگ دل کے لوگوں نے تلنگانہ کے ایک اسکول میں نماز پڑھنے پر مسلم طلبات کے ساتھ انتہائی غیرمناسب رویہ اختیار کیا اور انہیں دھمکیاں دیں۔ یہ واقعہ 23 اگست کو پیش آیا لیکن تلنگانہ کی پولیس کی جانب سے اب تک اس سلسلہ میں نہ کوئی ایف آئی آر درج کی گئی اور نہ ہی کسی کو گرفتار کیا گیا۔

امجد اللہ خان نے تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو لکھے ایک خط میں دعویٰ کیا کہ بجرنگ دل کے ارکان ونپرتی کے چانکیہ ہائی اسکول میں داخل ہوئے اور کچھ مسلم لڑکیوں کو مبینہ طور پر دھمکیاں دیں اور ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی جبکہ لڑکیاں اسکول انتظامیہ کی اجازت سے جمعہ کے روز نماز پڑھ رہی تھیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سے اس معاملہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ونپرتی پولیس سے فوری طور پر اس واقعہ میں ملوث بجرنگ دل کے ارکان کو گرفتار کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

ایم بی ٹی ترجمان نے کہا کہ اس واقعہ سے نہ صرف تلنگانہ بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں بلکہ طالبات اور والدین میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ واقعہ کے بعد علاقہ میں بھی حالات کشیدہ بتائے جارہے ہیں۔ انہوں نے ٹوئٹر پر اس واقعہ کی ویڈیوز کو بھی شیئر کیا۔

ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/1828242859843027058

اپنا تبصرہ بھیجیں