حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے منگل کو دہلی ایکسائز پالیسی اسکام سے جڑے بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے مقدمات میں بی آر ایس لیڈر کے کویتا کو ضمانت دے دی۔ جسٹس بی آر گاوائی اور کے وی وشواناتھن کی بنچ نے نوٹ کیا کہ کویتا تقریباً پانچ ماہ سے حراست میں ہیں اور ان کے خلاف سی بی ئی اور ای ڈی کی طرف سے ان معاملات میں جانچ تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ قبل ازیں دہلی ہائی کورٹ نے دونوں معاملوں میں کویتا کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا اور یہ کہا تھا کہ وہ دہلی ایکسائز پالیسی 2021-22 کی تشکیل اور نفاذ سے متعلق مجرمانہ سازش میں پہلی نظر میں ایک اہم سازشی ہیں۔ ای ڈی نے تلنگانہ کے سابق وزیراعلیٰ و بی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کی 46 سالہ دختر کو 15 مارچ کو حیدرآباد کے بنجارہ ہلز میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔ سی بی آئی نے انہیں 11 اپریل کو تہاڑ جیل سے گرفتار کیا تھا۔ کویتا نے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔
سینئر وکیل مکل روہتگی، کویتا کی طرف سے پیش ہوئے، یہ کہتے ہوئے ضمانت کی درخواست کی کہ ان کے خلاف تحقیقات دونوں ایجنسیوں کے ذریعہ مکمل ہوچکی ہے۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کا بھی حوالہ دیا جس میں عام آدمی پارٹی کے رہنما منیش سسودیا کو ضمانت دی گئی۔
بی آر ایس کی ایم ایل سی، کے کویتا کی درخواست ضمانت کو بالآخر سپریم کورٹ نے قبول کرتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ تلنگانہ کے سابق وزیراعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کی دختر کویتا گذشتہ پانچ ماہ سے جیل میں قید تھیں تاہم سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد وہ اب جیل سے باہر آجائیں گی۔
سپریم کورٹ نے منگل کو دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں کویتا کو ضمانت دیتے ہوئے ای ڈی اور سی بی آئی کی جانب سے کی جارہی جانچ پر سخت تبصرہ کیا۔ عدالت نے جانچ کی نوعیت پر ناراضگی جتائی اور ایجنسیوں کی کھنچائی بھی کی۔


