حیدرآباد (دکن فائلز) مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ بندی سنجے کمار نے بعض مدارس کے خلاف ’’دہشت گردی کو فروغ دینے اور ملک کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ‘‘ جیسے بے بنیاد الزامات عائد کئے۔ اگر ان کے بیان میں تھوڑی بہت بھی سچائی ہے تو یہ خود ان کی کارکردگی پر سوال اٹھاتا ہے کیونکہ خود ان کا تعلق وزارت داخلہ سے ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 19 ستمبر کو کریم نگر ضلع میں جمی کنٹا کے سری ودیارنیا آواسا ودیالیم میں لڑکیوں کے لیے ایک نئے ہاسٹل بلاک کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ بی جے پی کے سابق صدر بنڈی سنجے نے مدارس سے متعلق بے بنیاد ریمارس کئے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’مدارس میں جھاڑو کی مدد سے اے کے 47 رائفلیں کی تربیت دی جاتی ہے، مدراس دہشت گردی کی افزائش کی بنیاد ہیں اور ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں‘۔ انہوں نے ریاستی حکومت کے ایسے اداروں کو فنڈز فراہم کرنے کے فیصلے پر بھی سوال اٹھایا جو ’سرگرم طریقے سے انتہا پسندی کو فروغ دے رہے ہیں‘۔ (بظاہر ان کا اشارہ تبلیغی اجتماع کےلئے فنڈ سے متعلق تھا)
واضح رہے کہ بنڈی سنجے اسلاموفوبک بیانات کےلئے کافی مشہور ہیں، ایسا لگتا ہے کہ وہ سرخیوں میں جگہ بنانے کےلئے ہمیشہ مسلم مخالف بیانات دیتے رہتے ہیں۔ لیکن انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ اب وہ مرکزی وزیر ہیں اور ان کا تعلق وزارت داخلہ سے ہیں، اب اگر وہ مدارس یا مسلمانوں یا حیدرآباد کے پرانے شہر سے متعلق بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہیں تو اس سے خود انکی اور پوری وزارت داخلہ خاص طور پر وزیر داخلہ امیت شاہ کی کارکردگی پر سوال کھڑے اٹھنا لازمی ہے۔


