حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے کاماریڈی میں انتہائی گھناؤنا واقعہ پیش آیا جہاں ایک ٹیچر نے انستانیت کو شرمسار کردیا۔ میڈیا رپورٹس اور مقامی ذرائع کے مطابق نجی اسکول کا درندہ صفت ٹیچر نے مبینہ طور پر یو کے جی کی 6 سالہ طالبہ کو جنسی طور پر ہراساں کیا۔ جس کے خلاف بلالحاظ مذہب عوام کا بڑے پیمانہ پر احتجاج پھوٹ پڑا۔
اسکول کے روبرو لڑکی کے رشتہ داروں کے علاوہ اسٹوڈنٹ یونین اور مقامی لوگوں نے زبردست احتجاج کیا۔ اس گھناؤنی حرکت کے خلاف ہندو اور مسلمانوں نے مل کر جم کر احتجاج کیا۔ احتجاجی مظاہروں کے بعد کاماریڈی کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) ناگیشور اور سرکل انسپکٹر (سی آئی) چندر شیکھر ریڈی اسکول پہنچے اور مظاہرین کو سمجھانے کی کوشش کی۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے عوام کو تیقن دیا کہ ملزم کو فوری گرفتار کرتے ہوئے اس کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق پرائمری اسکول ٹیچر کے خلاف کاما ریڈی پولیس نے اسکول میں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا۔ پولیس نے ناگ راجو کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا تاہم وہ مفرور ہے۔
یہ شرمناک واقعہ 23 ستمبر کو پیش آیا۔ درندہ صفت ملزم کی شناخت ناگ راجو کے طور پر کی گئی ہے جو پی ٹی ٹیچر تھا۔ مبینہ طور پر اس نے متاثرہ لڑکی کو ایک کمرے میں لے گیا اور اس کے ساتھ شرمناک حرکت کی۔ تاہم لڑکی نے خوف کے عالم میں درندگی کی اطلاع والدین کو دی۔
جس کے بعد والدین نے اسکول پہنچ کر انتظامیہ اور ملزم ٹیچر کے خلاف احتجاج کیا اور پولیس میں اس کے خلاف شکایت درج کرائی۔ کاماریڈی بھر میں میں درندہ صفت ناگ راجو کے خلاف غم و غصہ دیکھا گیا۔ اس کے خلاف احتجاج کررہے لوگوں نے ناگ راجو کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
جمعیت علماء کاماریڈی کے رہنما سید عظمت علی، میر فاروق علی، محمد عبدالواجد علی، محمد سلیم الدین، محمد فیروز الدین د یگر نے بھی اس گھناؤنے واقعہ پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا اور پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملزز کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا۔


