طلبا کی زندگیوں کے ساتھ کیوں کھیلا جارہا ہے؟ فیس ری ایمبرسمنٹ فنڈ جاری نہ کرنے کی صورت میں بڑے پیمانہ پر احتجاج کیا جائے گا، اکبر الدین اویسی کا تلنگانہ حکومت انتباہ (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ اسمبلی میں مجلس اتحاد المسلمین کے قائد مقننہ اکبر الدین اویسی نے حکومت کو انتباہ دیا کہ اگر فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایا جات جلد ادا نہیں کیے گئے تو ایم آئی ایم کی جانب سے بڑے پیمانہ پر احتجاج کیا جائے گا۔ اکبر الدین اویسی نے آج قانون ساز اسمبلی میں وقفہ صفر کے دوران فیس ری ایمبرسمنٹ کا مسئلہ اٹھایا جس کی وجہ سے ریاست بھر کے طلبا پریشان ہیں۔

اکبرالدین اویسی نے کہا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ فنڈز جاری نہ ہونے کی وجہ سے ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتی طلبا کو شدید مشکلات کا سامنا ہے وہیں حکومت کے رویہ کی وجہ سے طلباء اور کالج مالکان کو بھاری نقصان ہو رہا ہے۔ فنڈز کے اجراء نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال 7 لاکھ طلباء متاثر ہو رہے ہیں اور کال مالکان کی جانب سے سرٹیفکیٹ روک لئے جانے کی وجہ سے طلبا کو کافی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایا جات روکنے کی وجہ سے 20 لاکھ طلباء کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ 4 لاکھ ٹیچنگ سٹاف کو وقت پر تنخواہیں نہیں مل رہیں۔ انہوں نے فوری طور پر اس معاملہ میں اقدامات کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔

https://x.com/i/status/1868934638766621062

مجلس کے رکن اسمبلی نے کہا کہ اوورسیز اسکالر شپ بھی جاری نہیں کی گئی۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ ’طلباء کی زندگیوں سے کیوں کھیلا جارہا ہے؟۔ فیس ری ایمبرسمنٹ کی ادائیگی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور فوری طور پر فنڈز جاری نہیں ہوتے ہیں تو بڑے پیمانہ پر احتجاج کیا جائے گا۔

اسی معاملہ پر جب بی آر ایس کے رکن اسمبلی ہریش راؤ نے بولنے کی کوشش کی تو انہیں موقع نہیں دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں