حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں بکانور پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر سائی کمار، بی بی پیٹ پولیس اسٹیشن کی کانسٹیبل شروتی اور کوآپریٹو سوسائٹی میں کمپیوٹر آپریٹر نکھل کی لاشیں کاماریڈی کے ایک تالاب میں ملنے سے سنسنی پھیل گئی۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کی صبح ریسکیو ٹیموں نے سداشیو نگر منڈل کے ادلور ایلاریڈی پیڈا تالاب سے ایس آئی سائی کمار کی لاش برآمد کی جبکہ چہارشنبہ کی رات کو ہی کانسٹیبل شروتی اور آپریٹر نکھل کی لاشیں تالاب سے نکالی گئی تھیں۔
قبل ازیں خاتون کانسٹیبل شروتی اور آپریٹر نکھل کے ساتھ ایس آئی سائی کمار کے اچانک لاپتہ ہونے سے ضلع میں سنسنی پھیل گئی تھی۔ ایلاریڈی تالاب کے کنارے ان کا سامان ملنے کے بعد پولس نے چہارشنبہ کی رات تالاب کی تلاشی شروع کی۔ آدھی رات تک شروتی اور نکھل کی لاشیں تالاب سے نکالی گئیں جبکہ آج صبح سب انسپکٹر سائی کمار کی لاش بھی ملی۔
یہ ایک معمہ بناہوا ہے کہ یہ تینوں ایک ساتھ یہاں آئے تھے؟ ان تینوں میں کیا رشتہ تھا؟ تینوں نے خودکشی کی یا کچھ اور ہی معاملہ ہے؟
تفصیلات کے مطابق سائی کمار پہلے بی بی پیٹ پولیس اسٹیشن میں کام کرتا تھا، شروتی بھی وہاں بطور کانسٹیبل تھیں۔ بعد میں سائی کمار کا تبادلہ بکانور کر دیا گیا ہے، شروتی بی بی پیٹ میں ہی رہیں۔ بی بی پیٹ کا ایک اور نوجوان نکھل سوسائٹی میں کمپیوٹر آپریٹر کے طور پر کام کرتا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ اگر پولس اسٹیشن میں کمپیوٹر کا کوئی مسئلہ ہوتو نکھل اس کی مرمت کیا کرتا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ ان تینوں کے درمیان کیا چل رہا تھا؟ تینوں نے ایک ہی جگہ جا کر خودکشی کیوں کی؟ پولیس کی جانب سے اس سلسلہ میں تحقیقات کی جارہی ہیں۔ یہ معاملہ محکمہ پولیس میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔


